ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ہبلی میں مانجھے سے خاتون کی موت پر حکومت سنجیدہ، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی: پرمیشور

ہبلی میں مانجھے سے خاتون کی موت پر حکومت سنجیدہ، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی: پرمیشور

Sat, 24 Oct 2026 12:37:50    S O News
ہبلی میں مانجھے سے خاتون کی موت پر حکومت سنجیدہ، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی: پرمیشور

بنگلورو، 24/ اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) نائب وزیرِاعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے ہبلی کی ودیا منجوناتھ گوڈر کی مانجھے کی زد میں آکر موت کے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفریح یا پتنگ بازی کے شوق کی خاطر معصوم شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں خطرناک مانجھے کی فروخت اور استعمال پر عائد پابندی کو مؤثر بنانے کے لیے حکومت سخت اقدامات کرے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ڈاکٹر پرمیشور کے مطابق، اس واقعے کو حکومت نے انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکوٹر پر سفر کرنے کے دوران ودیا منجوناتھ گوڈر کے گلے میں تیز دھار مانجھا پھنس گیا، جس کے نتیجے میں شدید خون بہنے سے ان کی موت ہوگئی۔ یہ افسوسناک واقعہ خطرناک مانجھے کے استعمال سے عوامی زندگی کو لاحق خطرات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

نائب وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں خطرناک مانجھے کی فروخت اور استعمال پر پابندی کے باوجود اس کا استعمال جاری رہنا تشویش کا باعث ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ وزراء اور اعلیٰ حکام کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا جائے گا تاکہ موجودہ قوانین پر مؤثر عمل آوری یقینی بنائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر قواعد کو مزید سخت کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کے لیے مناسب فیصلے کیے جائیں گے۔

ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ یہ معاملہ محض قانون پر عمل آوری تک محدود نہیں بلکہ انسانی ہمدردی، سماجی شعور اور شہری ذمہ داری سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ خطرناک مانجھے سے ہونے والی اموات کے واقعات بار بار سامنے آنے کے باوجود اس کا استعمال جاری رکھنا انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو یہ معلوم ہو کہ اس کے عمل سے دوسرے شخص کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے، تو اس کے باوجود ایسا کرنا سنگین غفلت ہے اور حالات کے مطابق مجرمانہ ذمہ داری بھی عائد ہوسکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پتنگ بازی تفریح کا ذریعہ ہونی چاہیے، نہ کہ ایسی سرگرمی جو راہ گیروں اور دیگر شہریوں کی زندگی کے لیے خطرہ بن جائے۔ تفریح کے نام پر خطرناک مانجھے کا استعمال یا پتنگ بازی کو ایسی مسابقت میں تبدیل کرنا جس سے عوام کی سلامتی متاثر ہو، کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔

نائب وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ کسی شہری کی موت سے اس کے خاندان پر پڑنے والے اثرات ناقابلِ تلافی ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت کے ساتھ عوام بھی اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ خطرناک مانجھے کے استعمال سے گریز کریں اور دوسروں کی جان و سلامتی کو ذاتی تفریح پر ترجیح دیں۔

ڈاکٹر جی پرمیشور نے اعادہ کیا کہ حکومت خطرناک مانجھے پر عائد پابندی پر مؤثر عمل آوری، خلاف ورزی کرنے والوں کے احتساب اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جان سے بڑھ کر کوئی تفریح نہیں ہوسکتی اور کسی خاندان کو ایسی قابلِ تدارک غفلت کے باعث اپنے عزیز سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔


Share: