
اُڈپی، 7 / جولائی (ایس او نیوز) اُڈپی ضلع پولس سپرنٹنڈنٹ ہری رام شنکر کی رپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے ضلع ڈپٹی کمشنر ٹی کے سواروپا نے امن و امان کی بحالی اور تحفظ کو یقینی بنانے کی سمت میں ایک اہم احتیاطی اقدام کے طور پر داونگیرے کے ایک راوڈی شیٹر اور ایچ جے وی لیڈر ستیش پجاری کو ضلع بدر کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے، جس کے تحت 7 جولائی سے 7 ستمبر 2025 تک دو ماہ کے لیے ستیش پجاری کے اُڈپی ضلع میں اُڈپی ضلع میں داخل ہونے پابندی عائد رہے گی ۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق، ہندو جاگرن ویدیکے کے ضلع کنوینر راجیش اُوچیلا کی طرف سے کرناٹک ریاستی حکومت کی مبینہ "ہندو مخالف پالیسیوں" کی مخالفت کے لیے ایک بڑے پیمانے پر احتجاج کا اہتمام کیا گیا ہے ۔
یہ احتجاج 7 جولائی کو منی پال میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے قریب شام 4 بجے ہونے والا ہے ۔ کارکلا، کنڈا پور اور اُڈپی تعلقہ میں بھی اسی طرح کے مظاہروں کا منصوبہ ہے ۔
انٹلیجنس رپورٹس سے انکشاف ہوا ہے کہ ستیش پجاری کو خفیہ طور پر احتجاج میں کلیدی مقرر کے طور پر شرکت کی دعوت دی گئی تھی ۔ حکام نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اس کے متعصبانہ پس منظر اور اشتعال انگیز تقاریر کی تاریخ کے پیش نظر اس احتجاجی مظاہرے میں اس کی شمولیت فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑ سکتی ہے اور بدامنی کو ہوا دے سکتی ہے ۔
ایک سینئر پولیس اہلکار نے کہا کہ "اس بات کی معتبر معلومات ہیں کہ اس پروگرام میں اس کی موجودگی امن و امان کے لئے سنگین مسائل کا باعث بن سکتی ہے ۔"
مزید رپورٹس بتاتی ہیں کہ ہندو جاگرن ویدیکے آنے والے دنوں میں کارکلا اور کندا پور میں بھی احتجاجی مظاہرے منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور پوجاری کو مقرر کے طور جلسوں میں دوبارہ شامل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے ۔ اس کے ماضی کے ریکارڈ اور اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے خدشات پیدا ہوئے کہ اس کی موجودگی فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے ۔
ضلع ایس پی ہری رام شنکر نے ڈپٹی کمشنر سواروپا کو جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں ستیش پجاری کے خلاف ریاست کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں درج 19 فوجداری معاملات کی تفصیل دی گئی ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ ضلع انتظامیہ نے عنقریب منعقد ہونے والے گنیش چترتھی اور کرشنا جنم اشٹمی جیسے بڑے تہواروں کو بھی مدنظر رکھا ہے ، جس کے دوران بڑے پیمانے پر عوامی جلسوں کی توقع کی جاتی ہے ۔ حکام کا خیال ہے کہ اس حساس عرصے میں ایسی متنازعہ شخصیت کو ضلع میں آنے کی اجازت دینے سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے ۔
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "عوامی امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے مفاد میں، ستیش پجاری کو اڈپی ضلع میں دو ماہ کے لیے داخل ہونے سے روکنے کے لیے اسے ضلع بدر کرنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔"