تل ابیب، 25/ اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی)اسرائیل میں انتخابات سے محض تین روز قبل سب سے اہم شہر تل ابیب میں ہزاروں افراد نے وزیر اعظم نتن یاہو کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا ہے۔ نتن یاہو پہلے ہی مشکل انتخابی مہم سے گزر رہے ہیں۔ تازہ ترین احتجاجی ریلی سنیچران شہریوں کی طرف سے کی گئی جن کے خاندان اسرائیلی حکومت کی ناکام حفاظتی پالیسی کی وجہ سے اکتوبر۲۰۲۷ء میں نشانہ بنے تھے۔ احتجاج کا اہتمام اسی `اکتوبر کونسل نے کیا تھا۔
مظاہرین حکومت میں ہونے کے باوجود اپنے شہریوں کو حملے سے بچانے میں ناکام رہنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ وہ انتخابات سے محض تین دن پہلے یہ احتجاج کر کے اپنی تین برسوں کی جدوجہد کے اہم ترین مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں کہ شہریوں کی حفاظت نہ کر سکنے والوں کو سزا دی جائے ان کا احتساب کیا جائے۔ `ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں ’اکتوبر کونسل‘ کے منتظمین نے اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں سے بھی کہا تھا کہ وہ بھی ان کے اس احتجاج کا حصہ بنیں۔ تاکہ حفاظت نہ کر سکنے والوں کے احتساب کا مطالبہ کرنے والی یہ جدوجہد کامیاب ہو سکے۔
یہ احتجاج اب تک چھ بار وزیر اعظم بننے والے نتن یاہو کے خلاف تھا جنہیں ساتویں بار بھی وزیر اعظم بننے کی خواہش ہے مگر انتخابات میں ان کیلئے مشکلات ان کی فکر مندی کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ مظاہرین کا موقف ہے۲۰۲۲ء سے بر سر اقتدار نتن یاہو کی حکومت عوام کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی اسی لئے سات اکتوبر کا واقعہ ہوا اور بعد ازاں ایرانی میزائل بھی اسرائیل کے اندر تک پہنچتے رہے۔ عوامی سطح پر نتن یاہو حکومت کے خلاف کافی غم و غصہ پایا جاتا رہا ہے۔ مظاہرین کی قیادت کرنے والی۶۸؍ سالہ ھداس فیورشتاین نے خبر رساں ادارے `اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا اسرائیل کبھی بھی اتنی بری صورت حال میں نہیں رہا ہے جتنا کہ اب ہے۔ کیونکہ پچھلے چار برسوں سے جو لوگ حکومت میں ہیں انہوں نے انتہائی بری کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
اکتوبر کونسل کا مطالبہ رہا ہے کہ حکومت سات اکتوبر کا حملہ نہ روک سکنے کی وجوہات منظر عام پر لانے کیلئے ایک آزاد کمیشن قائم کرے۔ تاہم نتن یاہو حکومت اس مطالبے کو ماننے سے انکاری رہی ہے۔ البتہ ایک ایسا تحقیقاتی کمیشن بنانے کا وعدہ کرتی رہی ہے جس کی نصف تعداد حکومت کی نامزد کردہ ہو۔ حکومت کا یہ موقف ماضی کی حکومتوں کے برعکس رہا ہے۔ کیونکہ ماضی میں آزادانہ کام کرنے والے کمیشن قائم کئے جاتے رہے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن لیڈروں نے موقف اختیار کر رکھا ہے کہ وہ کسی ایسے کمیشن کو قبول نہیں کریں گے جو حکومت کی مرضی سے بنے گا۔