اڈپی 25/جولائی (ایس او نیوز): مبینہ نیٹ (NEET) سوالیہ پرچہ لیک معاملے کے خلاف اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہزاروں طلبہ نے منی پال میں سڑکوں پر اتر کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
طلبہ نے منی پال کے کوائن سرکل سے ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک احتجاجی ریلی نکالی اور اس دوران مرکزی حکومت، وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر جاری طلبہ احتجاج سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا اور مطالباتی پلے کارڈز اور بینرز بھی آویزاں کیے۔
احتجاج میں شریک طلبہ نے الزام عائد کیا کہ نیٹ پرچہ لیک معاملہ مرکزی حکومت کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ اس موقع پر مبینہ طور پر اس معاملے کے باعث جان گنوانے والے طلبہ کو خاموشی اختیار کرکے خراجِ عقیدت بھی پیش کیا گیا۔
احتجاج کی قیادت کرنے والے روہن مچادو نے کہا کہ تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور طلبہ برسوں کی محنت کے بعد امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، لیکن پرچہ لیک جیسے واقعات ان کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اخلاقی ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے۔ اس موقع پر طلبہ رہنما جون مہتی کولکاتا نے بھی خطاب کیا۔
احتجاج میں سہابالوا تنظیم کے صدر پروفیسر کے۔ فنی راج، وشواس امین، دلت سنگھرش سمیتی کے شیام راج برتی، پرشانت برتی، پرکاش ہیروور، ایس آئی او کے ضلعی صدر ایان ملپے سمیت مختلف تنظیموں کے ذمہ داران اور سیکڑوں طلبہ نے شرکت کی۔