ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہ ہونے کے باوجود ہزاروں لوگ ہوئے جمع؛ 700 سے زائد مظاہرین حراست میں

نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہ ہونے کے باوجود ہزاروں لوگ ہوئے جمع؛ 700 سے زائد مظاہرین حراست میں

Sat, 03 Oct 2026 00:36:02    S O News
نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہ ہونے کے باوجود ہزاروں لوگ ہوئے جمع؛ 700 سے زائد مظاہرین حراست میں

نئی دہلی 2 اکتوبر (ایس او نیوز): چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے خلاف جمعہ کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے پہنچنے والے 700 سے زائد افراد کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ احتجاج کی اجازت نہ دیے جانے کے باوجود ہزاروں لوگ جنترمنتر پہنچنے کی کوشش کی جس میں مختلف طلبہ تنظیموں، اپوزیشن جماعتوں، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد شامل تھے، جس کے بعد پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو بسوں میں بٹھا کر مختلف پولیس اسٹیشنوں میں منتقل کیا۔

احتجاج کی بنیادی کال آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA)، راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ منوج جھا اور سپریم کورٹ کے وکیل و سماجی کارکن پرشانت بھوشن نے دی تھی۔ اس کے علاوہ عام آدمی پارٹی (AAP)، اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (SFI)، ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا (DYFI)، نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (NSUI) اور انڈین یوتھ کانگریس سے وابستہ کارکنوں نے بھی احتجاج میں شرکت کی یا اس کی حمایت کا اعلان کیا۔

احتجاج میں عام آدمی پارٹی کے رہنما سوربھ بھاردواج، آتشی، سنجے سنگھ، سنجیو جھا اور انوراگ ڈھانڈا؛ AISA کی قومی صدر نہا بورا؛ SFI کی آئشی گھوش؛ CPI(M) کے جنرل سکریٹری ایم اے بیبی اور سینئر رہنما برندا کرات؛ سماجی کارکن یوگیندر یادو اور دیگر طلبہ و سماجی کارکنوں کو بھی پولیس نے حراست میں لیا۔ NSUI کے قومی صدر ونود جاکھڑ کو بھی احتجاجی مارچ کے دوران حراست میں لیے جانے کی اطلاع ہے۔

دہلی پولیس نے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے جنتر منتر کی جانب جانے والے راستوں پر سخت بیریکیڈنگ کی تھی۔ نئی دہلی میں BNSS کی دفعہ 163 نافذ کرتے ہوئے پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع، جلوس اور مظاہرے پر پیشگی اجازت کے بغیر پابندی عائد کی گئی تھی۔ علاقے میں تقریباً 4,000 پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو جنتر منتر پہنچنے سے روکا اور کئی مقامات پر انہیں دھکیلتے ہوئے بسوں میں منتقل کیا۔ اطلاع  کے مطابق بعض مظاہرین کو گھسیٹ کر بسوں میں ڈالا گیا اور خواتین مظاہرین کے ساتھ بھی سخت رویہ اختیار کیا گیا۔

احتجاج کے پیش نظر دہلی میٹرو نے 11 اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستے بند کردیے، جبکہ مرکزی دہلی کے بعض علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات بھی متاثر رہیں۔ مظاہرین نے ’’Vote Chor, Gaddi Chhod‘‘ اور ’’Gyanesh Kumar Hai Hai‘‘ سمیت کئی نعرے لگاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور انتخابی عمل میں شفافیت کا مطالبہ کیا۔

احتجاج کرنے والی جماعتوں اور تنظیموں کا الزام ہے کہ SIR کے دوران بڑی تعداد میں اہل ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے ہیں اور اس عمل سے شہریوں کے حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مظاہرین نے الیکشن کمیشن کے کام کاج، اس کے فیصلوں اور چیف الیکشن کمشنر کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کو مقررہ طریقۂ کار کے مطابق قرار دیا ہے۔

جنتر منتر کا آج کا احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب INDIA بلاک نے بھی SIR اور الیکشن کمیشن کے خلاف 2 سے 8 اکتوبر تک ملک گیر ’’Save Democracy March‘‘ چلانے کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے 6 اکتوبر کو اپنے تمام ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ تاہم آج جنتر منتر پر احتجاج مختلف طلبہ تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے گروپوں کی الگ الگ کال پر منعقد ہوا تھا۔


Share: