ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / منگلورو میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف پوسٹر لگانے کا معاملہ؛ کرناٹک ہائی کورٹ کی وضاحت، بابری مسجد کے فیصلے کو ناانصافی ماننا جرم نہیں

منگلورو میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف پوسٹر لگانے کا معاملہ؛ کرناٹک ہائی کورٹ کی وضاحت، بابری مسجد کے فیصلے کو ناانصافی ماننا جرم نہیں

Mon, 26 Oct 2026 19:59:53    S O News
منگلورو میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف پوسٹر لگانے کا معاملہ؛ کرناٹک ہائی کورٹ کی وضاحت، بابری مسجد کے فیصلے کو ناانصافی ماننا جرم نہیں

بنگلورو، 26 اکتوبر (ایس او نیوز): کرناٹک ہائی کورٹ نے منگلورو میں بابری مسجد۔ایودھیا تنازع پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو ’’انصاف سے محرومی‘‘ قرار دینے والے پوسٹروں کے معاملے میں 13 افراد کے خلاف درج فوجداری مقدمہ منسوخ کردیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی عدالتی فیصلے سے اختلاف کرنا، اسے ناانصافی قرار دینا یا انصاف کے مطالبے کے لیے آواز اٹھانا بذاتِ خود جرم نہیں ہے، جب تک اظہارِ خیال میں متعلقہ فوجداری جرم کے لازمی قانونی اجزا موجود نہ ہوں۔

جسٹس ایچ پی سندیش نے 15 اکتوبر 2026 کو اپنے حکم میں کہا کہ زیرِ بحث پوسٹروں میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے اسے انصاف سے محرومی قرار دیا گیا تھا اور انصاف کے لیے آواز اٹھانے کی اپیل کی گئی تھی۔ عدالت کے مطابق، یہ اظہارِ اختلاف اور احتجاج کے زمرے میں آتا ہے اور اسے آئین کی دفعات 19 اور 21 کے تحت حاصل حقوق کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ عدالت نے اسی بنیاد پر 13 افراد کے خلاف کارروائی منسوخ کردی۔

کیا تھا پورا معاملہ؟

یہ معاملہ نومبر 2019 کا ہے، جب ایودھیا میں بابری مسجد۔رام جنم بھومی تنازع پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد منگلورو کی سڑک کے کنارے دیواروں پر بعض پوسٹر لگائے گئے تھے۔ ان پوسٹروں میں عدالتی فیصلے کو انصاف سے محرومی قرار دیتے ہوئے لوگوں سے انصاف کے لیے آواز اٹھانے کی اپیل کی گئی تھی۔

منگلورو ساؤتھ پولیس نے 16 نومبر 2019 کو ازخود کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا تھا۔ پولیس کی شکایت میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر 13 افراد کو ملزم بنایا گیا اور ان کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعات 153A، 295A اور 120B کے علاوہ کرناٹک اوپن پلیس ڈس فیگرمنٹ ایکٹ کی دفعہ 3 کے تحت کارروائی کی گئی تھی۔

دفعہ 153A مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے، دفعہ 295A مذہبی جذبات کو دانستہ اور بدنیتی کے ساتھ مجروح کرنے، جبکہ دفعہ 120B مجرمانہ سازش سے متعلق تھی۔ پولیس اور استغاثہ کا مؤقف تھا کہ پوسٹروں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوسکتی ہے۔

ملزمین نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ پوسٹروں میں استعمال کیے گئے الفاظ سے ان کے خلاف عائد کردہ جرائم کے قانونی اجزا ثابت نہیں ہوتے۔ ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی عدالتی فیصلے سے اختلاف کرنا آئین کے تحت حاصل آزادیٔ اظہار کا حصہ ہے۔

عدالت نے کیا کہا؟

ہائی کورٹ نے پوسٹروں کے الفاظ اور ان کے مفہوم کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ان میں بنیادی طور پر عدالتی فیصلے سے اختلاف اور انصاف کے لیے آواز اٹھانے کی بات تھی۔ محض اس بنیاد پر کہ کچھ افراد کو ان الفاظ سے ناراضی یا نفرت محسوس ہوسکتی ہے، فرقہ وارانہ دشمنی پھیلانے کے جرم کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 153A کے اطلاق کے لیے ضروری قانونی عناصر کا ہونا لازم ہے۔ اسی طرح دفعہ 295A کے تحت کارروائی کے لیے محض مذہبی یا عدالتی معاملے پر تنقیدی اظہار کافی نہیں، بلکہ قانون میں بیان کردہ دانستہ اور بدنیتی پر مبنی عمل کے تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔

عدالت نے ان حالات میں قرار دیا کہ زیرِ بحث پوسٹروں سے متعلق الزامات ان دفعات کے تحت جرم قائم کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ چنانچہ 13 افراد کے خلاف مقدمہ منسوخ کردیا گیا۔

بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا تھا؟

سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ نے 9 نومبر 2019 کو ایودھیا اراضی تنازع پر متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے متنازعہ اراضی رام مندر کی تعمیر کے لیے قائم کیے جانے والے ٹرسٹ کو دینے اور مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کے لیے ایودھیا میں متبادل پانچ ایکڑ زمین فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

اسی فیصلے میں سپریم کورٹ نے 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام کو قانون کی حکمرانی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ تاہم، منگلورو کے پوسٹر معاملے میں ہائی کورٹ نے اس فیصلے کی قانونی درستی پر دوبارہ غور نہیں کیا، بلکہ اس بات کا جائزہ لیا کہ فیصلے سے اختلاف ظاہر کرنے والے افراد کے خلاف فوجداری مقدمہ جاری رکھنے کے لیے قانونی بنیاد موجود ہے یا نہیں۔

آزادیٔ اظہار کے لیے اہم قانونی نظیر

ہائی کورٹ کے اس حکم کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ عدالتی فیصلوں پر تنقید اور ان سے اختلاف جمہوری معاشرے میں آزادیٔ اظہار کا حصہ ہے۔ آئین کی دفعہ 19(1)(a) شہریوں کو آزادیٔ اظہار کا حق دیتی ہے، اگرچہ اس حق پر آئین میں بیان کردہ معقول پابندیاں بھی لاگو ہوتی ہیں۔ دفعہ 21 زندگی اور شخصی آزادی کے تحفظ سے متعلق ہے۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے 2024 کے فیصلے جاوید احمد حاجم بنام ریاست مہاراشٹر کے اصولوں کا بھی حوالہ دیا، جس میں اظہارِ خیال اور اختلاف کے حق سے متعلق قانونی پہلوؤں پر غور کیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کسی عدالتی فیصلے سے اختلاف کو محض اس کی وجہ سے فوجداری جرم نہیں بنایا جاسکتا۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قسم کی تقریر، پوسٹر یا احتجاج قانونی پابندیوں سے مستثنیٰ ہے؛ ہر معاملے میں الفاظ، سیاق و سباق اور متعلقہ جرم کے قانونی تقاضوں کا الگ سے جائزہ لیا جائے گا۔

اس طرح منگلورو کے اس معاملے میں ہائی کورٹ نے یہ واضح کیا ہے کہ عدالتی فیصلے پر عدم اطمینان ظاہر کرنا اور انصاف کا مطالبہ کرنا، جب تک اس میں کسی جرم کے ضروری عناصر موجود نہ ہوں، آئینی طور پر محفوظ اختلافِ رائے کے دائرے میں آتا ہے۔


Share: