پٹنہ ، 10/نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی) بہار اسمبلی انتخابات اپنے آخری مرحلے میں ہیں۔ دوسرے مرحلے کیلئے انتخابی مہم اتوار کی شام ۶؍ بجےختم ہو گئی۔ این ڈی اے اور مہاگٹھ بندھن سمیت تمام پارٹیوں کےسرکردہ لیڈران نےآخری دن ریلیوں سے خطاب کیا اور اپنے امیدواروں کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی۔ سیاسی جماعتوں کی توجہ اب ۱۱؍نومبر کو ہونے والی پولنگ پر مرکوز ہوگئی ہے۔اس دن ریاست کے ۲۰؍اضلاع گیا، کیمور، روہتاس، اورنگ آباد، ارول، جہان آباد، نوادہ، بھاگلپور، بانکا، جموئی، سیتامڑھی، شیوہر، مدھوبنی، سپول، پورنیہ، ارریہ، کٹیہار، کشن گنج، مشرقی چمپارن اور مغربی چمپارن کے۱۲۲؍ اسمبلی حلقوں کے ووٹر ریاست کی اگلی حکومت کا فیصلہ کریں گے۔
انتخابی مہم تھم گئی ہے لیکن اس انتخابی مہم کی سب سے اہم بات یہ رہی کہ اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے نہایت جم کر انتخابی مہم چلائی ۔ انہوں نے ریلیوں کی تعداد کے معاملے میں دیگر تمام لیڈروں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ اگر ۱۴؍ نومبر کو نتیجہ مہا گٹھ بندھن کے حق میں آیا تو اس میں تیجسوی کی محنت کو سب سے زیادہ دخل ہو گا۔ انتخابی مہم کے ان آخری دنوں میں تیجسوی یادو کی تیز رفتار اور مسلسل مہم خاص طور پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی ۔ انہوں نے انتخابی مہم کے آغاز کے پہلے ہی تین دنوں میں ۲۷؍ریلیاںمکمل کرلی تھیں اور پھر انہوں نے روزانہ ۱۰؍ ریلیوں سے خطاب کرنے کا شیڈول بنالیاجو انتخابی مہم کے آخری دن تک ۱۵۵؍ ریلیوں تک پہنچ گیا۔ انہوں نے پوری انتخابی مہم کے دوران اتنی ریلیوں سے خطاب کیا کہ ان کے قریب دیگر کوئی بھی لیڈر نہیں پہنچ پایا ہے۔ یہ وہی برق رفتاری ہے جو۲۰۲۰ء کے انتخابات میں بھی دیکھی گئی تھی، جب وہ ہیلی کاپٹر سے اترتے ہی جلسہ گاہ تک دوڑ کر پہنچتے اور مختصر مگر مؤثر خطاب کے بعد فوراً اگلے مقام کی جانب روانہ ہوجاتے تھے۔اسی وجہ سے انہوں نے اپنے اتحاد کو حکومت قائم کرنے کی درپر پہنچادیا تھا۔
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی بہار کے الیکشن میں دلچسپی دکھائی ۔ انہوں نے مہا گٹھ بندھن کو تقویت دیتے ہوئے ۱۵؍ اضلاع میں ۱۷؍ ریلیاں کیں۔ انہوں نے ان اضلاع پر زیادہ دھیان دیا جو یوپی کی سرحد سے متصل ہیں۔ ان کی ریلیوں میں امڈنے والی بھیڑ اتنی زیادہ تھی اور یہ ریلیاں اتنی ہٹ ہوئیں کہ مہا گٹھ بندھن کے کئی امیدواروں نے انہیں اپنے یہاں چھوٹی چھوٹی کارنر میٹنگوں کے لئے بھی مدعو کیا ۔ اکھلیش اس میں بھی گئے اور بی جے پی کی پالیسیوں کے خلاف جم کر پرچار کیا۔
دوسری جانب کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی انتخابی مہم کے دوران مختلف اضلاع میں پرزور ریلیاں کیں۔ انہوں نے گیا، بھاگلپور، سیوان، اور دربھنگہ سمیت کئی علاقوں میں جلسوں سے خطاب کیا اور این ڈی اے حکومت پر سخت حملے کیے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’’اگر اس بار ووٹ چوری نہیں ہوئی تو مہاگٹھ بندھن کی جیت طے ہے۔ عوام نے بی جے پی اور اس کے حلیفوں کے فریب کو پہچان لیا ہے۔‘‘