نئی دہلی ، 11/جون (ایس او نیوز /ایجنسی)مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا انتخاب میں کانگریس لیڈر میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد کیے جانے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے سماعت جمعہ (12 جون) تک ملتوی کر دی ہے۔ میناکشی نٹراجن کی جانب سے اس معاملہ میں فوری سماعت کی درخواست کی گئی تھی، کیونکہ انتخاب کا نتیجہ آج ہی جاری ہونا ہے۔ بعد ازاں عدالت سے گزارش کی گئی کہ کل تک کے لیے نتائج کے اعلان پر روک لگا دی جائے۔ حالانکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق نتائج پر روک لگانے سے متعلق عدالت نے کچھ ذکر نہیں کیا۔
آج عدالت عظمیٰ میں ایڈووکیٹ ابھشیک منو سنگھوی نے میناکشی نٹراجن کی طرف سے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کل تک انتظار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ نتائج آج ہی جاری ہونے ہیں۔ جب ابھشیک منو سنگھوی نے معاملے کا ذکر کیا تو عدالت نے سوال کیا کہ کیا یہ ذکر قواعد کے مطابق ہے؟ اس پر الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ڈی ایس نائیڈو نے کہا کہ ہم بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ قواعد کے مطابق نہیں ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے عرضی کے قابلِ سماعت ہونے پر بھی سوال اٹھائے۔ تاہم ابھشیک منو سنگھوی کی درخواست پر عدالت کل اس معاملے کی سماعت کے لیے تیار ہو گئی۔ سنگھوی نے کہا کہ ’’میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ کل سماعت کر لیجیے، لیکن تب تک (انتخابی) نتائج کے اعلان پر روک لگا دیجیے۔‘‘ تاہم عدالت نے نتائج پر روک لگانے کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا۔
قابل ذکر ہے کہ مدھیہ پردیش کی 3 راجیہ سبھا نشستوں پر بی جے پی کے تین امیدوار میدان میں ہیں۔ میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہونے کے بعد انتخابی میدان میں صرف یہی تین امیدوار باقی رہ گئے ہیں اور 11 جون نام واپس لینے کی آخری تاریخ ہے، اسی لیے کانگریس نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی ہے۔ نام واپس لینے کی مدت ختم ہوتے ہی بی جے پی کے تینوں امیدوار بلا مقابلہ کامیاب قرار دے دیے جائیں گے۔