نئی دہلی 17 جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی): سپریم کورٹ نے جمعہ کو انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (Special Intensive Revision - SIR) سے متعلق سماعت کے دوران ایک اہم زبانی مشاہدہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ سے خارج ہوجانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کی ہندوستانی شہریت بھی ختم ہوگئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ انتخابی فہرست سے اخراج اور شہریت دو الگ الگ قانونی معاملات ہیں، اس لیے صرف ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے کی بنیاد پر کسی کو غیر شہری قرار نہیں دیا جا سکتا۔
دو رکنی بنچ نے سماعت کے دوران اس بات پر زور دیا کہ اگر کسی شخص کا نام خصوصی نظرثانی کے بعد ووٹر لسٹ میں شامل نہ رہے تو اس سے اس کی شہریت خود بخود متاثر نہیں ہوتی۔ عدالت نے کہا کہ شہریت سے متعلق حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں بلکہ متعلقہ قانونی طریقۂ کار اور مجاز حکام کے پاس ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابی فہرست کی تیاری اور نظرثانی کے دوران شہریت کے بارے میں محدود دائرے میں جانچ پڑتال ضرور کر سکتا ہے، کیونکہ آئین کے مطابق صرف ہندوستانی شہری ہی ووٹر بن سکتے ہیں، تاہم یہ جانچ کسی شخص کی شہریت کا حتمی تعین نہیں سمجھی جا سکتی۔ اگر کسی معاملے میں شبہ برقرار رہے تو الیکشن کمیشن متعلقہ حکام کو مطلع کر سکتا ہے، لیکن شہریت ختم کرنے یا برقرار رکھنے کا فیصلہ اس کے اختیار میں نہیں ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے اس خدشے کو بھی دور کیا کہ ووٹر لسٹ سے اخراج کے بعد متعلقہ شخص فوری طور پر دیگر قانونی حقوق سے محروم ہو جائے گا۔ عدالت کے مطابق انتخابی فہرست سے نام ہٹنے کا اثر صرف ووٹ ڈالنے کے حق پر پڑ سکتا ہے، جبکہ شہریت اور اس سے وابستہ دیگر قانونی حقوق الگ قانونی عمل کے تابع رہتے ہیں۔
یہ معاملہ خصوصی انتخابی نظرثانی (SIR) کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران زیر غور آیا، جہاں درخواست گزاروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بڑے پیمانے پر نام خارج کیے جانے سے لاکھوں افراد کی شہریت پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔ عدالت نے اس خدشے کے جواب میں واضح کیا کہ انتخابی فہرست سے اخراج کو شہریت کے خاتمے کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ اس سے قبل بھی متعدد سماعتوں میں یہ رائے ظاہر کر چکا ہے کہ الیکشن کمیشن کو انتخابی فہرستوں کی درستگی برقرار رکھنے کے لیے شہریت کے بارے میں محدود جانچ کا اختیار حاصل ہے، لیکن وہ کسی شہری کی شہریت منسوخ نہیں کر سکتا اور نہ ہی ملک بدری جیسے اقدامات کا حکم دے سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کے تازہ مشاہدات سے یہ اصول مزید مضبوط ہوا ہے کہ ووٹ ڈالنے کا حق اور شہریت اگرچہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن دونوں کی قانونی حیثیت یکساں نہیں ہے۔ کسی شخص کا نام انتخابی فہرست میں نہ ہونا اس کی شہریت ختم ہونے کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا، اور اگر نام حذف کیا جاتا ہے تو متعلقہ فرد کے پاس قانونی چارہ جوئی اور نظرثانی کے تمام حقوق برقرار رہتے ہیں۔