بیلتنگڈی، 5 / جولائی (ایس او نیوز) دکشن کنڑا میں دھرمستھلا کے ایک شخص کی طرف سے ایک دہائی قبل گاوں میں کئی افراد کی لاشیں خفیہ طور پر دفنائے جانے کی شکایت موصول ہونے پر دھرمستھلا پولیس نے کیس رجسٹر کر لیا ۔
پولیس کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ اس معاملے میں دھرمستھلا پولیس اسٹیشن میں بی این ایس کی دفعہ 211(a) اور جرم نمبر 39/2025 کے تحت کیس رجسٹر کیا ہے اور متعلقہ عدالت سے ضروری اجازت حاصل کرتے ہوئے قانونی ضوابط کے مطابق تفتیش آگے بڑھائی جائے گی ۔ چونکہ شکایت کنندہ نے اس کے متعلق تفصیلات مخفی رکھنے کی مانگ کی ہے اس لئے اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی ۔
البتہ شکایت کنندہ کی طرف سے اڈپی ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ کے پاس درج کروائی گئی شکایت کی جو نقل ایڈوکیٹ اوجسوی گوڈا اور سچن دیشپانڈے نے جاری کی ہے اس کے مطابق شکایت کنندہ ایک صفائی کرمچاری ہے جو دھرمستھلا میں 1995 سے 2014 درمیان خدمات انجام دے رہا تھا ۔ اس کے بعد اپنے اور اپنے خاندان کے لئے خطرہ محسوس کرتے ہوئے وہ ایک پڑوسی ریاست میں منتقل ہونے پر مجبور ہو گیا کیونکہ اس کے اپنے خاندان کی ایک لڑکی کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔
شکایت کنندہ کے مطابق وہ پولیس کی طرف سے اس کی شناخت ظاہر نہ کرنے اور اس کی اور اس کے خاندان کے لئے مناسب تحفظ فراہم کرنے کی شرط پر پچھلی ایک دہائی قبل ہوئی قتل ، عصمت دری اور خاموشی کے ساتھ لاشیں دفن کرنے جیسی مجرمانہ سرگرمیوں پر سے پردہ اٹھانے کے لئے تیار ہے۔ وہ اس مقام کی بھی واضح نشاندہی کرنے کے لئے تیار ہے جہاں پر لاشیں دفنائی گئی ہیں اور ان جرائم میں ملوث طاقتور اور اثر و رسوخ والے افراد کی شناخت بھی ظاہر کرنے کے لئے تیار ہے ۔
شکایت کنندہ کا دعویٰ ہے کہ ماضی میں ایسے بے شمار جرائم انجام دئے گئے ہیں اور رازداری کے ساتھ لاشوں کو دفنانے کے لئے اس پر دباو ڈالا گیا تھا اور ڈر اور خوف کی وجہ سے اس نے یہ کام انجام دیا تھا ۔ اس کا کہنا ہے کہ 1998 میں جب اس نے لاش دفنانے سے انکار کیا اور اپنے سپروائزر سے کہا کہ اس کے بارے میں پولیس کو اطلاع دینا چاہیے تو اسے مارا پیٹا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ۔ مگر اب اس کے اندر جرم کا احساس جاگ اٹھا ہے اور وہ پچھتاوے کے طور پر اس راز پر سے پردہ اٹھانا چاہتا ہے تاکہ مارے گئے افراد کو انصاف ملے ۔
شکایت کنندہ کے مطابق جو لاشیں دفنائی گئی ہیں ان میں مرد اور عورتیں دوونوں شامل تھیں جن میں سے بعض کو بند کمرے میں کرسیوں سے باندھ کر توال سے ان کا منھ ڈھانپ کر دم گھونٹتے ہوئے ہلاک کیا گیا ۔ جنسی درندگی کا شکار ہونے والی بعض لاشیں تو نابالغ اسکولی بچیوں کی تھیں جنہیں ان کے یونیفارم اوراسکول بیگ سمیت ٹھکانے لگایا گیا ۔ بعض لاشیں بھیک مانگنے والی غریب نوجوان لڑکیوں کی تھیں ۔ بعض کے چہرے پر تیزاب ڈال کر ان شناخت مٹانے کا کام کیا گیا ۔ اس نے بعض لاشوں کو ڈیزل ڈال کر جلایا بھی ہے ۔ اس نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ان مقامات سے لاشوں کے باقیات نکال کر مکمل تحقیق اور تفتیش کی جائے ۔