ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی لیڈر کے بیٹے پر عصمت دری اور غیرقانونی حمل کا الزام، انصاف کے لیے ایس ڈی پی آئی کا احتجاج

بی جے پی لیڈر کے بیٹے پر عصمت دری اور غیرقانونی حمل کا الزام، انصاف کے لیے ایس ڈی پی آئی کا احتجاج

Thu, 03 Jul 2025 18:27:18    S O News
بی جے پی لیڈر کے بیٹے پر عصمت دری اور غیرقانونی حمل کا الزام، انصاف کے لیے ایس ڈی پی آئی کا احتجاج

پتور، 3 /جولائی (ایس او نیوز) ایس ڈی پی آئی (سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا) نے  پتور میں بی جے پی لیڈر کے بیٹے پر عصمت دری اور غیرقانونی حمل کے الزامات کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پارٹی کے ضلع دیہی نائب صدر اور بنٹوال بلدیہ کے نائب صدر منیش علی نے الزام لگایا کہ سنگھ پریوار کے "ہم سب ہندو ایک ہیں" جیسے نعرے صرف جلسوں تک محدود رہ گئے ہیں، جب کہ مظلوم کو انصاف دلانے میں ان کی کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔

منیش علی نے سوال اٹھایا کہ بی جے پی کے سینئر ہندو لیڈر پربھاکر بھٹ جب منڈیا جا کر تقریریں کر سکتے ہیں، توپتور  میں پیش آئے اس سنگین واقعے پر خاموش کیوں ہیں؟ ہندو توا کے علمبردار بیلتنگڈی  ایم ایل اے ہریش پونجا کہاں ہیں؟ مرکزی وزیر شوبھا کرندلاجے کہاں چھپی ہیں؟ سدانند گوڑا، نلین کمار کٹیل اور دیگر بی جے پی لیڈران متاثرہ کے ساتھ کھڑے کیوں نہیں ہوئے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے نہ تو ملزم کو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی جائے واردات کی جانچ کی ہے۔

متاثرہ لڑکی کی ماں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر برادری کے لیڈروں کے پاس گئیں، سب نے یہی کہا کہ حمل ضائع کروا دو، لیکن شادی کی بات کوئی نہیں کرتا۔ لڑکے کے والد نے وعدہ کیا تھا کہ شادی کروائے گا، اب وہی اپنے بیٹے کو چھپا رہا ہے۔ ماں نے کہا کہ جب کہیں سے انصاف نہیں ملا تو ایس ڈی پی آئی سے رجوع کیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان کی بیٹی کے بچے کو باپ کا درجہ ملنا چاہیے اور قانونی شادی ہونی چاہیے۔

ایس ڈی پی آئی کی ضلعی رکن زینت بنٹوال نے کہا کہ یہ معاشرہ صرف مظلوم کی ذات اور مذہب دیکھ کر انصاف دیتا ہے۔ اگر عصمت دری کرنے والا کوئی مسلم یا کرسچن ہوتا، تو بی جے پی لیڈران سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہوتے۔

احتجاج میں ایس ڈی پی آئی پتّور کے صدر اشرف باوو، تاج الدین سالمار، یحییٰ کورنڈکا، عثمان اے کے، سمیر کورنڈکا، مصطفیٰ اور پاتیمات زور سمیت کئی کارکنان اور خواتین رکن شریک تھیں۔

protest-puttur_2 (1)
 


Share: