نئی دہلی 19/نومبر (ایس او نیوز/پی ٹی آئی): سپریم کورٹ نے منگل کے روز مرکزی حکومت، مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی)، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، صنعتکار انیل امبانی اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ یہ نوٹس ریلائنس کمیونیکیشنز (آر کام)، اس کی گروپ کمپنیوں اور پروموٹر سے متعلق مبینہ بڑے بینکنگ اور کارپوریٹ فراڈ کی عدالت کی نگرانی میں جانچ کرانے کی درخواست پر جاری کیے گئے ہیں۔
چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے سابق مرکزی سکریٹری ای اے ایس سرما کی جانب سے دائر پی آئی ایل پر وکیل پرشانت بھوشن کی پیش کردہ گزارشات کو سماعت میں لیا اور تمام فریقوں سے تین ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کو کہا۔ عدالت نے معاملے کی آئندہ سماعت بھی تین ہفتے بعد مقرر کردی ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ جانچ ایجنسیاں بینکوں اور ان کے افسران کی مبینہ شمولیت کی تفتیش نہیں کر رہیں، حالانکہ معاملے میں بڑے پیمانے پر بینکنگ فراڈ کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ درخواست میں سی بی آئی اور ای ڈی کو ہدایت دینے کی گزارش کی گئی کہ وہ بینکوں اور ان کے اہلکاروں کے خلاف جاری تحقیقات کی اسٹیٹس رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ انیل امبانی کی قیادت والے ریلائنس اے ڈی اے گروپ کی متعدد کمپنیوں میں مبینہ طور پر عوامی فنڈز کی باقاعدہ ہیرا پھیری، مالیاتی بیانات میں گڑبڑی اور ادارہ جاتی سطح پر ملی بھگت کے شواہد موجود ہیں۔ پی آئی ایل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 21 اگست کو سی بی آئی کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر اور ای ڈی کی متعلقہ کارروائییں مبینہ بڑے فراڈ کے صرف ایک چھوٹے حصے تک محدود ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق تفصیلی فورینزک آڈٹ میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آنے کے باوجود نہ تو بینک افسران، نہ آڈیٹرس اور نہ ہی ریگولیٹری اداروں کے کردار کی جانچ کی جا رہی ہے، جو کہ "انتہائی اہم ناکامی" ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ مبینہ منظم فراڈ اور فنڈز کی ہیرا پھیری سے متعلق نتائج کو بمبئی ہائی کورٹ کے ایک فیصلے میں عدالتی طور پر تسلیم بھی کیا جا چکا ہے۔