ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / راجستھان کے سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی بے نقاب، 611 اسکول اپنی عمارتوں سے محروم

راجستھان کے سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی بے نقاب، 611 اسکول اپنی عمارتوں سے محروم

Sun, 23 Aug 2026 12:26:51    S O News

جے پور، 23/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں   رام پور ہ کنور پورہ کے سرکاری پرائمری اسکول کا جائزہ لینے پہنچی سی جے پی ٹیم پرجمعہ کو ہونےوالا حملہ زعفرانی خیمہ کو مہنگا پڑ گیا۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پوری ریاست سے طلبہ اور نوجوان اپنے اپنے علاقے کے اسکولوں  کی خستہ حالی کا ویڈیو بنا کر شوشل میڈیا پر پوسٹ کررہے ہیں اور سی جے پی نیز اس کے لیڈر آشوتوش رانکا کو ٹیگ بھی کررہے ہیں۔ اس بیچ خود راجستھان حکومت کو اسمبلی میں  اعتراف کرنا پڑا کہ ریاست میں  کم ازکم ۶۱۱؍ سرکاری اسکولوں کے پاس کوئی عمارت نہیں ہے۔ رام پور ہ کنور پورہ کے اسکول کا معاملہ سامنے آنے کے بعد حکومت نے خفت مٹانے کیلئے اسے طویلے سے ہٹا کر ایک مقامی شخص کے مکان میں  منتقل کردیا ہے۔ اُدھر الور میں  طلبہ نے اساتذہ کی کمی کے خلاف احتجاج کرتےہوئے اسکول میں  تالا لگا دیا۔

سی جے پی لیڈر آشوتوش رانکا جو اس ٹیم کا حصہ تھے جس پر جے پور میں  حملہ کیاگیا، نے ’ایکس‘ پر کئی اسکولوں  کے ویڈیو شیئر کئے ہیں۔ زیادہ تر اسکولوں  کی عمارتیں  انتہائی خستہ ہیں   اور اساتذہ کی کمی کی شکایت کی گئی ہے۔ بلاک گووند گڑھ کے اسکول کے بارے میں  انکشاف ہوا ہے کہ وہاں  ستمبر ۲۵ء سےاسکول کو مڈڈے میل کی رقم نہیں  ملی اور نہ ہی کھانا پکانےوالے خاتون کی تنخواہ جاری کی گئی ہے۔ کئی اسکولوں   کے بارے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عمارت کے خستہ اور اس کے گرنے کا خطرہ پیدا ہونے کے بعد اسے خالی کروالیاگیا اور اسکول کہیں  مندر میں چل رہا ہے تو کہیں  کھلے آسمان کے نیچے بچوں  کو پڑھایا جارہاہے۔

اس بیچ ریاستی حکومت نے اسمبلی میں بتایا ہے کہ۶۱۱؍ سرکاری اسکول ایسی عمارتوں کے بغیر چل رہے ہیں جو ان کی اپنی ہوں۔ اس کے علاوہ ریاست کے ہزاروں اسکولوں میں بیت الخلا، پینے کے پانی اور محفوظ کلاس روم سمیت بنیادی سہولیات کی کمی پائی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے بعد ریاست کے تعلیمی نظام میں بنیادی سہولیات کی صورتحال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

راجستھان کے ضلع الور میں  کئی مقامات پر مقامی افراد نے اسکولوں  کی خستہ حالی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ رینی بلاک کے ڈگڈگا علاقہ میں  اساتذہ کی شدید کمی کے باعث طلبہ اور مقامی افراد نے ایک سرکاری اسکول کو تالا لگا کر احتجاج کیا۔ احتجاج کے بعد محکمہ تعلیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسکول میں ۲؍نئے اساتذہ تعینات کر دیئے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی کمی کے سبب طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی تھی۔ محکمہ تعلیم کی یقین دہانی کے بعد اسکول دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

راجستھان کے جے پور ضلع میں سرکاری اسکول کے معائنہ کے دوران جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی کی ٹیم اور حملہ کے بعد ایف آئی آر بھی ہوگیا ہے۔ سی جے پی نے حملہ آوروں  کو ’’بی جےپی کے غنڈے‘‘ قرار دیاہے جبکہ پولیس مقامی افراد قرار دے رہی ہے۔ پولیس کے مطابق اس نے دونوں فریقوں کی شکایات پر ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ سی جے پی لیڈر آشوتوش رانکا نے الزام لگایا ہے کہ حملہ منصوبہ بند تھا اورحملہ آوروں نے رات کو بی جے پی رکن اسمبلی کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔

راجستھان میں  ٹیچروں  کی تنظیم’’اکھل بھارتیہ راشٹریہ شیکشک مہاسنگھ‘‘ سی جے پی کی ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کی یہ کہہ کر مخالفت کی ہے کہ وہ اسکولوں  کو سیاسی لڑائی کا اکھاڑہ نہیں  بننے دینا چاہتی۔ یہ صفائی دیتے ہوئے کہ تنظیم حکومت کا دفاع نہیں کررہی ہے، اس کے نائب صدر پورن مل ناگر نے کوٹہ میں  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسکولی انفرا اسٹرکچر اور انتظامی خامیوں  کا معاملہ وزارت تعلیم میں  طے شدہ طریقے سے اٹھایا جانا چاہئے۔ ‘‘ تنظیم کی پرائمری ٹیچروں  کی اکائی کےنائب صدر نول کشور شرما نے دعویٰ کیا کہ محکمہ تعلیم اور ریاستی سرکار مرحلہ وار طریقہ سے اصلاحات کرر ہے ہیں۔ 


Share: