مینگلور، یکم / جولائی (ایس او نیوز) ضلع دکشن کنڑا کے پُتور میں ایک نوجوان لڑکی کو شادی کا وعدہ دے کر اس کے ساتھ زیادتی کر نے کے معاملے میں کانگریس لیڈر ایچ محمد علی نے سوال اُٹھایا ہے کہ شادی کا جھانسہ دے کر ہندو لڑکی کو ماں بنانے کے معاملے میں، ہندو لیڈران آواز بلند کیوں نہیں کر رہا ہے ؟ آخر معاشرہ اس سنگین واقعے کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لے رہا ہے ؟
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس زیادتی کے معاملے کو اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جیسے یہ کوئی اہم معاملہ ہی نہ ہو، انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں جو بھی لب کشائی کر رہا ہے، اُسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ چھوٹے چھوٹے معاملات پر ہندوتوا کا نعرہ لگانے والے لیڈران اب کہاں روپوش ہو گئے ہیں؟ ایک ہندو لڑکی کے ساتھ ناانصافی ہونے کے باوجود نہ کوئی ہندو لیڈر اور نہ ہی بی جے پی کا کوئی رہنما اس پر لب کشائی کر رہا ہے۔ اگر اس کیس میں ملزم مسلمان ہوتا تو پورے پتّور کو نذرِ آتش کر دیا جاتا۔
محمد علی نے کہا کہ پتّور میں جو بھی معاملہ پیش آتا ہے، اُس میں سب سے آگے رہنے والے ارون کمار پٹیل اس وقت کہاں غائب ہیں؟ اس معاملے میں جو بھی ثالثی کی کوشش کر رہے تھے، ان تمام افراد کے نام منظرِ عام پر لائے جانے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس نوجوان نے لڑکی کے ساتھ ناانصافی کی، وہ آزاد گھوم رہا ہے، اور اس کا والد بھی پوری آزادی سے زندگی بسر کر رہا ہے۔ چونکہ یہ واقعہ لڑکی کے گھر میں نہیں بلکہ لڑکے کے گھر میں پیش آیا ہے، اس لیے اُس کے والد کو بھی گرفتار کیا جانا چاہیے۔ پولیس کو اُس کے گھر کی مکمل تلاشی لینی چاہیے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ یہ بھی جانچ ہونی چاہیے کہ آیا اس گھر میں ماضی میں بھی ایسے واقعات تو پیش نہیں آئے۔
پریس کانفرنس میں کانگریس قائدین مورس مسکرینس، سریش پُجاری، ہریش آچاریہ اور رشید مر بھی موجود تھے۔