ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پنجاب میں طلبہ احتجاج: ایل پی یو میں تشدد، پولیس گاڑیاں نذرِ آتش؛ 10 دن کے لیے کلاسیں معطل

پنجاب میں طلبہ احتجاج: ایل پی یو میں تشدد، پولیس گاڑیاں نذرِ آتش؛ 10 دن کے لیے کلاسیں معطل

Mon, 28 Sep 2026 07:02:19    S O News
پنجاب میں طلبہ احتجاج: ایل پی یو میں تشدد، پولیس گاڑیاں نذرِ آتش؛ 10 دن کے لیے کلاسیں معطل

چنڈی گڑھ، 28 ستمبر (ایس او نیوز): ریاست پنجاب  کے چنڈی گڑھ میں گزشتہ دو دن کے دوران دو نجی یونیورسٹیوں میں طلبہ کے احتجاج نے تشویشناک صورت اختیار کرلی ہے۔ راجپورہ کی چِتکارا یونیورسٹی کے بعد پھگواڑہ میں لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) میں طلبہ کا احتجاج پرتشدد ہوگیا، جہاں کیمپس میں توڑ پھوڑ، آگ زنی، پولیس کے ساتھ جھڑپ اور قومی شاہراہ کی ناکہ بندی کے واقعات پیش آئے۔ دستیاب تازہ اطلاعات کے مطابق معاملہ ایک طالبہ کے مبینہ جنسی زیادتی کے دعوے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ اطلاعات سے شروع ہوا، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعے کی تردید کی ہے اور پولیس نے تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی ہے۔ 

ایل پی یو میں کیا ہوا؟
احتجاج کا آغاز اتوار کی علی الصبح گرلز ہاسٹل کے قریب ہوا۔ بعض طلبہ نے الزام لگایا کہ ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی ہوئی، اس نے انتظامیہ کو اطلاع دی لیکن کارروائی نہیں کی گئی اور بعد میں اسے گھر بھیج دیا گیا۔ طلبہ نے انصاف اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج شروع کیا۔ بعد میں مظاہرین نے یونیورسٹی کی املاک کو نقصان پہنچایا، کچھ اشیا کو آگ لگائی اور جالندھر-پھگواڑہ قومی شاہراہ کو بھی بلاک کردیا، جس سے ٹریفک متاثر ہوئی۔

اتوار کی شام صورتحال دوبارہ کشیدہ ہوئی اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پولیس نے مظاہرین پر پتھراؤ کا الزام عائد کیا، جبکہ طلبہ کی جانب سے پولیس پر لاٹھی چارج کا الزام لگایا گیا ہے.

پولیس نے کیا کارروائی کی؟
پولیس نے طلبہ کی شکایت کی بنیاد پر نامعلوم شخص کے خلاف ریپ کا مقدمہ درج کیا ہے اور جالندھر رینج کے ڈی آئی جی نوین سنگلا کی نگرانی میں ایک SIT تشکیل دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق تفتیش میں طلبہ کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے گا اور CCTV فوٹیج، فرانزک شواہد اور دیگر دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے گا۔

دوسری جانب پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں مبینہ زیادتی کے دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔   ایک سینئر تفتیشی افسر نے ابتدائی طور پر بتایا کہ جس مقام کا حوالہ دیا جارہا تھا وہاں موجود تین لڑکیوں میں سے کسی کے ساتھ زیادتی کے شواہد نہیں ملے، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔ 
پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 2,000 سے زائد اہلکار تعینات کیے ہیں۔ حکام کے مطابق صورتحال کو قابو میں لایا گیا ہے، تاہم کیمپس میں سکیورٹی برقرار رکھی جارہی ہے۔

یونیورسٹی کا موقف:
LPU انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی زیادتی کی اطلاعات کو غلط، بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ یونیورسٹی نے طلبہ، والدین اور عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات کو آگے نہ بڑھائیں اور صرف یونیورسٹی کے سرکاری ذرائع سے جاری معلومات پر اعتماد کریں۔

یونیورسٹی نے تین طالبات کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جنہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ ان کے ہاسٹل میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

28 ستمبر سے کلاسیں 10 دن کے لیے بند:
مسلسل کشیدگی کے پیش نظر LPU نے 28 ستمبر سے 10 دن کے لیے باقاعدہ کلاسیں معطل کردی ہیں، جبکہ مڈ ٹرم امتحانات بھی غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیئے گئے ہیں۔ یونیورسٹی نے طلبہ کو والدین یا سرپرستوں سے مشورے کے بعد اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دی ہے، جبکہ ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

چِتکارا یونیورسٹی میں بھی احتجاج:
LPU سے ایک روز پہلے راجپورہ کی چِتکارا یونیورسٹی میں بھی طلبہ کا بڑا احتجاج ہوا تھا۔ وہاں سوشل میڈیا پر دو طالبات کے ہاسٹل میں مبینہ خودکشی یا گمشدگی سے متعلق پیغامات پھیلنے کے بعد طلبہ بڑی تعداد میں جمع ہوگئے تھے۔ پولیس اور طبی حکام نے ان دعوؤں کو غیر مصدقہ قرار دیا، جبکہ یونیورسٹی نے واضح کیا کہ گرلز ہاسٹل میں نہ کوئی خودکشی ہوئی اور نہ کسی طالبہ کی موت ہوئی ہے۔

اس احتجاج میں بھی املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس کے ساتھ کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پنجاب پولیس اب دونوں یونیورسٹیوں میں اچانک پھوٹنے والے احتجاج کی وجوہات کا جائزہ لے رہی ہے اور یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ آیا دونوں واقعات کے درمیان کوئی تعلق ہے۔ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا ہے کہ فی الحال دونوں واقعات کو الگ الگ سمجھا جارہا ہے، تاہم تمام امکانات کی جانچ کی جارہی ہے۔ 


Share: