ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کیا اتر کنڑا کانگریس میں بن گئے ہیں دو دو پاور سینٹرز ؟

کیا اتر کنڑا کانگریس میں بن گئے ہیں دو دو پاور سینٹرز ؟

Thu, 03 Jul 2025 18:07:07    S O News
کیا اتر کنڑا کانگریس میں بن گئے ہیں دو دو پاور سینٹرز ؟

بھٹکل 3 / جولائی (ایس او نیوز) ریاستی کانگریس میں وزیر اعلیٰ سدا رامیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوا کمار حامیون پر مبنی دو الگ الگ پاور سینٹر کام کرنے کی بات تو جگ ظاہر ہے ، لیکن اب اتر کنڑا ضلع میں بھی کانگریس پارٹی سابق وزیر اور موجودہ ایم ایل اے سینئر کانگریسی لیڈر دیشپانڈے اور بھٹکل حلقے سے موجودہ ایم ایل اے اور ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا کے حامیوں کے درمیان تقسیم ہونے اور یہاں بھی دو دو پاور سینٹرز کام کرنے کی بات سنائی دے رہی ہے ۔
    
ریاستی کانگریسی حکومت کا حال یہ ہے سدا رامیا اور ڈی کے شیوا کمار کے درمیان رسہ کشی ہونے کی خبریں اکثر سرخیوں میں رہتی ہیں اور پھر پارٹی ہائی کمان کے لیڈروں کی طرف سے لیپا پوتی کرتے ہوئے معاملہ کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے ۔ لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اراکین اسمبلی کے باضابطہ دو گروہ اپنے طور پر مسلسل سرگرم رہتے ہیں اور وقفے وقفے سے وزارت اعلیٰ کو لے کر بارود کے فلیتے میں آگ لگانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہر ایک گروپ کے اراکین اسمبلی اپنے علاقے کے لئے فنڈ حاصل کرنے اور منصوبے منظور کروانے کے لئے اپنے اپنے کیمپ کے لیڈر یعنی سدا رامیا اور ڈی کے شیوا کمار سے ہی رابطے میں رہتے ہیں ۔
    
اسی دوران سیاسی حلقوں میں حال ہی میں یہ بات بھی گردش کرنے لگی ہے کہ ریاستی کانگریس میں اب تیسرا نیا پاور سینٹر بھی بن گیا ہے اور وہ کانگریس پارٹی کے قومی صدر ملیکارجن کھرگے کا پاور سینٹر ہے ۔ اس کی حقیقت سمجھنے کے لئے ریاستی سیاست میں چل رہی سرگوشیوں اور سرگرمیوں کے نتائج کا انتظار کرنا ہوگا ۔ 
    
دوسری طرف ضلع اتر کنڑا میں کانگریس پارٹی کی حالت پر نظر کریں تو ایسا لگتا ہے کہ یہاں بھی دو پاور سینٹر سرگرم ہیں ۔ صاف دیکھا حا سکتا ہے کہ کچھ لوگ ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا کے پاس اپنا کام اور مسائل لے کر جاتے ہیں تو کانگریسی لیڈروں کا ایک بڑا حلقہ سینئر کانگریسی لیڈر اور ایم ایل اے دیشپانڈے سے اپنے کام کروانے کو ترجیج دیتا ہے ۔ 
    
اسی بیچ یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ بڑی مدت تک ضلع کے انتظامی معاملات میں نہ لینے والے دیشپانڈے نے اب ریاستی کابینہ میں رد و بدل اور توسیع کے امکانات دیکھتے ہوئے ضلع میں اپنی سرگرمی تیز کر دی ہے ۔  حال ہی میں منعقدہ کے ڈی پی میٹنگ میں دیشپانڈے کی شرکت کو اس کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔  اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو لوگ منکال وئیدیا سے رابطہ کیے بغیر سیدھے دیشپانڈے کے پاس پہنچتے ہیں ان کے مسائل حل کرنے میں دیشپانڈے کی طرف سے خصوصی دلچسپی دکھائی جاتی ہے ۔
    
اگر اتر کنڑا کے ان دو لیڈروں دیشپانڈے اور منکال کی ریاستی سطح پر وابستگی کی بات کریں تو دیشپانڈے وزیر اعلیٰ سدا رامیا کے قریبی مانے جاتے ہیں جبکہ منکال وئیدیا نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوا کمار کے چہیتے سمجھے جاتے ہیں ۔ ایسی صورت میں فطری بات ہے کہ ریاستی کانگریس میں اعلیٰ لیڈروں کی سیاسی منصوبہ بندی اور طریقہ کار کا اثر ضلع اتر کنڑا پر بھی یقینی طور پر پڑے گا ۔  ایسے میں ضلع کی سیاست میں اپنے گروہ کی گرفت مضبوط رکھنا ضلع کے دونوں کی لیڈروں کی ترجیح ہے اور دونوں میں سے ایک اپنی وزارت کی کرسی بچانے میں مصروف ہے تو دوسرا کابینہ کے رد و بدل میں اس کرسی کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔ 


Share: