بنگلورو، 14 /اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے پُرامن احتجاج کے جمہوری حق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلورو میں مظاہرین کے ساتھ پولیس کے برتاؤ کا جائزہ لیا جائے گا اور پُرامن احتجاج میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ڈی کے شیوکمار نے اپنے بیان میں کہا کہ پُرامن احتجاج جمہوریت کا بنیادی حق ہے۔ اگر ہم دہلی میں اپنے لیے اس حق کا مطالبہ کرتے ہیں تو بنگلورو میں دوسروں کو اس سے محروم نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں اور میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ پیش آئے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کارروائی کے اسباب سے متعلق مکمل رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ اگر غیر ضروری طاقت کے استعمال یا کسی زیادتی کا ثبوت سامنے آتا ہے تو ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن، ریاستی حکومت یا خود ان سے اختلاف کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی شہری کے پُرامن طور پر اپنی رائے ظاہر کرنے کے حق میں کمی آجائے۔ کرناٹک کو جمہوری اقدار کے ان معیارات پر پورا اترنا چاہیے جن کی توقع ملک کے دیگر حصوں سے کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں دوہرا معیار نہیں اپنایا جائے گا۔
دوسری جانب وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے بھی کہا کہ بنگلورو پولیس کی جانب سے مظاہرین سے نمٹنے کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی پُرامن مظاہرے میں خلل نہ ڈالا جائے اور شہریوں کے احتجاج کے حق کا احترام اور تحفظ یقینی بنایا جائے۔
پریانک کھرگے نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور متعلقہ حکام کو احتجاج کے بارے میں پیشگی اطلاع دیں، تاکہ مظاہرین کی سلامتی کے ساتھ دیگر شہریوں کے حقوق کا بھی تحفظ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا کام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے، نہ کہ ان کی آواز کو دبانا۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ حکومت کی ذمہ داری صرف امن و قانون برقرار رکھنا نہیں، بلکہ ایسا ماحول فراہم کرنا بھی ہے جس میں ہر شہری بلا خوف و خطر اپنی رائے اور اختلاف کا اظہار کرسکے۔ جمہوریت میں پُرامن اختلاف امن و قانون کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ یہ ریاستی نظام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حق کا تحفظ کرے۔
حکومتی سربراہان کے ان بیانات کو احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر اٹھنے والے سوالات کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم، واقعے کی مکمل تفصیلات اور پولیس کارروائی سے متعلق حتمی صورتِ حال رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔