نئی دہلی، 24 ستمبر (ایس او نیوز): چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی جانب سے مبینہ طور پر 14 تحریری اعتراضات سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان کی معطلی، گرفتاری، اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کی منسوخی اور سپریم کورٹ کی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ ردعمل دی انڈین ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کے اعتراضات کا انکشاف کیا گیا تھا۔
راہول گاندھی: گیانیش کمار مستعفی ہوں
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے کہا کہ گیانیش کمار کو فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے بجائے جمہوری اداروں کو کمزور کر رہا ہے اور اس معاملے کو جمہوریت کے خلاف سنگین حملہ قرار دیا۔
اکھلیش یادو: سپریم کورٹ ازخود سنگیان لے
سماجوادی پارٹی صدر اکھلیش یادو نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا ازخود (Suo Motu) سنگیان لے۔ ان کے مطابق اگر دو الیکشن کمشنروں نے بار بار اعتراضات درج کیے ہیں تو پورے انتخابی عمل کی آئینی جانچ ناگزیر ہے۔
ادھو ٹھاکرے: گرفتاری اور دوبارہ انتخابات
شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے گیانیش کمار کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جن ریاستوں میں ایس آئی آر کے تحت انتخابی عمل متاثر ہوا، وہاں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اب اپوزیشن کے خدشات کو دو الیکشن کمشنروں کے اعتراضات نے تقویت دی ہے۔
ممتا بنرجی: جمہوریت کے قتل کا ثبوت
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے کہا کہ سامنے آنے والی معلومات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اپوزیشن مسلسل جس خطرے کی نشاندہی کر رہی تھی وہ بے بنیاد نہیں تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی اداروں کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں اور اس معاملے کی عدالتی نگرانی میں تحقیقات ہونی چاہیے۔
ابھیشک منو سنگھوی؛ الیکشن کمیشن ہائی جیک
کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن راجیہ سبھا ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک اکثریتی ادارہ ہے اور چیف الیکشن کمشنر کو دیگر دو الیکشن کمشنروں سے بالاتر سمجھا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے 1995 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ گیانیش کمار نے الیکشن کمیشن کو ’’ہائی جیک‘‘ کرلیا اور اپنے ہی ساتھی کمشنروں کو فیصلہ سازی سے الگ کردیا۔ سنگھوی نے کہا کہ دونوں الیکشن کمشنروں کی جانب سے گزشتہ 10 ماہ میں 14 مرتبہ اعتراضات درج کیے جانے کے باوجود ان سوالات کا جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے فارم-6 میں تبدیلی، EROs کے اختیارات محدود کرنے اور انتخابی ڈیٹا کے مرکزی کنٹرول سمیت دیگر اقدامات پر بھی سوال اٹھائے اور گیانیش کمار سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔
عام آدمی پارٹی: فوری گرفتاری اور ایس آئی آر منسوخ
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے گیانیش کمار کی فوری گرفتاری اور پورے ایس آئی آر عمل کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ جب خود الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات ریکارڈ پر موجود ہیں تو ووٹر فہرست کی نظرثانی پر عوام کا اعتماد برقرار نہیں رہ سکتا۔
دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی میدان میں
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، پرینکا گاندھی، ڈی ایم کے سربراہ ایم کے اسٹالن اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی گیانیش کمار کے خلاف کارروائی اور ایس آئی آر روکنے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن کا مشترکہ مؤقف ہے کہ تین رکنی الیکشن کمیشن میں اختلاف کی صورت میں فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔