یروشلم ، 24/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اسرائیل کو مزید عسکری طور پر خود کفیل بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو اپنی ہتھیاروں کی تیاری کی صلاحیتوں کو خود تیار کرنا چاہیے اور غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کم کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب اسرائیل کو خطے میں ایران اور اس سے منسلک گروپوں کے خلاف جاری تنازعات کا سامنا ہے۔
شائع خبروں کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں ریزرو کامبیٹ فورس کے افسران کے ساتھ ملاقات کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ جہاں وہ امریکہ سے ملنے والی حمایت کو سراہتے ہیں وہیں اسرائیل کو اب اپنے دفاعی پیداواری ڈھانچے کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ نیتن یاہو نے کہا، "میں اپنے امریکی دوستوں کی طرف سے گزشتہ برسوں میں ملنے والی حمایت اور تعاون کی دل کی گہرائیوں سے تعریف کرتا ہوں۔ لیکن آج میں کہتا ہوں کہ ہمیں ہتھیاروں کی تیاری میں خود انحصار بننے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے ہتھیار خود بنانا ہوں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ آنے والی دہائیوں میں اسرائیل کی پوزیشن اس کی فوجی طاقت اور اسے برقرار رکھنے کی صلاحیت پر منحصر ہوگی۔ نیتن یاہو نے کہا کہ "ہمیں اس وقت ایران کا سامنا ہے۔ ہم نے اسے سخت جواب دیا ہے۔ یہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے لیکن سب کچھ ہماری طاقت پر منحصر ہے۔ ہماری طاقت اگلے 30 سالوں میں ہماری پوزیشن کا تعین کرے گی۔ اسی لیے ہم اسرائیل کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔"
اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کو اسٹریٹجک انحصار کم کرنا چاہیے، نئی ٹیکنالوجی کو اپنانا چاہیے اور نئی نسلوں کی عسکری قیادت تیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "ہمیں خود کو انحصار سے آزاد کرنا چاہیے، مسلسل مزید طاقت بنانا چاہیے، نئی ٹیکنالوجی کو شامل کرنا چاہیے ۔ بالآخر، یہ ہماری پوزیشن کا تعین کرے گا۔"
نیتن یاہو نے طویل عرصے سے امریکی فوجی امداد پر اسرائیل کا انحصار بتدریج کم کرنے کی وکالت کی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب یروشلم میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی مذاکرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ واشنگٹن کی مستقبل کی پالیسیاں اس کی فوجی حکمت عملی اور علاقائی آزادی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ نیتن یاہو کا یہ بیان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ بیان کے بعد آیا ہے۔ ونیس نے گزشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ حالیہ مہینوں میں اسرائیل کی سلامتی کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیاروں میں سے دو تہائی امریکہ کی جانب سے فراہم کیے گئے اور فنڈز فراہم کیے گئے۔ دریں اثناء امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کا ذکر کرتے ہوئے متعدد بار اسرائیل کا شکریہ ادا کیا ہےاور ٹرمپ نے کہا کہ ان کے بغیر اسرائیل کا وجود ختم ہو جائے گا۔