نئی دہلی ، 24/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)ہندوستان کے بھگوڑے ہیرا کاروباری نیرو مودی کو برطانوی عدالت سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد اب اسے بینک فراڈ معاملے میں 100 کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ ہائی کورٹ کے جج سائمن ٹنکلر نے نیرو مودی کو ذاتی گارنٹی کے تحت مقروض قرار دیا۔ رپورٹس کے مطابق نیرو مودی پر 4.1 ملین ڈالر (تقریباً 38.9 کروڑ روپے) کی اصل رقم واجب الادا ہے۔ بینک اس میں مقررہ سود بھی شامل کرے گا۔
اطلاعات کے مطابق منگل کو ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران نیرو یا اس کے وکیل نے اپنے دفاع میں کوئی صفائی نہیں دی۔ اس سے پہلے نیرو نے دلیل دی تھی کہ گارنٹی ناقابل عمل ہے کیونکہ اسے بینک سے کبھی جائز مطالبات (نوٹس) نہیں حاصل ہوئے تھے۔ خبروں کے مطابق بینک آف انڈیا نے جولائی 2012 میں دبئی واقع نیرو کی کمپنی فائر اسٹار ڈائمنڈ ایف زیڈ ای کو قرض دیا تھا۔ نیرو مودی نے 3 اگست 2013 کو اس کے لیے ذاتی گارنٹی دی تھی۔
2018 کے اوائل میں جب نیرو کی جانب سے پنجاب نیشنل بینک میں مبینہ فراڈ کی خبر پھیلی تو بینک آف انڈیا نے قرض واپس مانگنے کا فیصلہ کیا۔ مارچ اور اپریل 2018 میں فائر اسٹار اور نیرو مودی کو بھیجے گئے نوٹس کا جواب نہیں ملا۔ 8 مارچ 2024 کو بینک آف انڈیا نے 4.1 ملین ڈالر کی اصل رقم اور سود کے لیے سمری فیصلہ حاصل کیا۔ بینک نے اکتوبر 2025 میں نیرو مودی کو ایک اور نوٹس بھیجا۔ جج ٹنکلر نے کہا کہ فروری 2018 سے فائر اسٹار گروپ کی ہر کمپنی متاثر ہوئی تھی۔
جسٹس ٹنکلر نے بتایا کہ 17 فروری 2018 کو نیرو مودی نے بینک کو ای میل بھیجا تھا، جس میں اس نے میڈیا کی ہلچل سے آپریشن بند ہونے کی بات کہی تھی۔ اس نے گروپ کے بینکوں کو اپنے بقایا واجبات کی ادائیگی میں عذر بھی بتایا تھا۔ نیرو نے اپریل 2018 اور اکتوبر 2025 کے مطالبات حاصل ہونے سے انکار کیا۔ حالانکہ جسٹس ٹنکلر مطمئن تھے کہ دونوں مطالبات اسے حاصل ہوئے تھے اور انہوں نے گارنٹی کو نافذ کرنے لائق پایا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو لندن کی عدالت کا تازہ فیصلہ بینک آف انڈیا کے حق میں آیا ہے اور اب بھگوڑے نیرو مودی کو 100 کروڑ روپئے سے زائد رقم بینک آف انڈیا کو واپس کرنی ہوگی۔ غیر ملکی کرنسی میں یہ بقایا رقم تقریباً 10.7 ملین ڈالر ہوگی۔