ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مودی، شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ’دیش دروہی‘ ہیں، راہول گاندھی کا الزام؛ سی ای سی کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ

مودی، شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ’دیش دروہی‘ ہیں، راہول گاندھی کا الزام؛ سی ای سی کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ

Thu, 24 Sep 2026 20:58:29    S O News
مودی، شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ’دیش دروہی‘ ہیں، راہول گاندھی کا الزام؛ سی ای سی کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ

نئی دہلی، 24 ستمبر (ایس او نیوز): لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ’دیش دروہی‘ قرار دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ ان لوگوں نے ملک کے ووٹ کو تباہ کیا ہے۔

نئی دہلی کے اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ انہیں ’سو فیصد یقین‘ ہے کہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئین اور ملک کے قانونی ڈھانچے پر حملہ ہے اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ووٹ کی حفاظت کرنا تھی۔

راہول گاندھی نے کہا کہ ان کے پاس اس سلسلے میں کافی معلومات موجود ہیں اور اس کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم جمہوریت کو تباہ ہوتے دیکھ کر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ذمہ دار لوگوں کو سزا دی جائے گی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے کردار کی تحقیقات ہوں گی اور الزام لگایا کہ دونوں اس مبینہ سازش میں سب سے اوپر ہیں۔ راہول گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں ’سرکاری گواہ‘ بننے کا مشورہ بھی دیا۔ ان کے مطابق ایسا کرنا ملک کے مفاد میں اور ’حب الوطنی‘ کا عمل ہوگا۔

راہول گاندھی نے اپنی پریس کانفرنس میں وزیر اعظم مودی اور امیت شاہ کے بعض سابقہ بیانات کی ویڈیوز بھی چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ویڈیوز میں امیت شاہ بی جے پی کے مزید 30 سال تک اقتدار میں رہنے کی بات کرتے ہیں، جبکہ وزیر اعظم مودی ’اب کی بار 400 پار‘ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ راہول گاندھی نے سوال اٹھایا کہ ایک جمہوری نظام میں کوئی سیاسی رہنما اتنے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کی بات کیسے کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی سیاست میں اقتدار مخالف رجحان ایک بنیادی قوت ہے جو کسی بھی حکومت کو نہیں بخشتی۔ راہول گاندھی نے اندرا گاندھی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش جنگ میں کامیابی کے باوجود ایک دو سال کے اندر ان کی حکومت کو شدید اقتدار مخالف دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق یہی صورتحال مختلف ادوار میں دیگر حکومتوں کے ساتھ بھی رہی، لیکن ان کے بقول مودی، شاہ اور بی جے پی کے معاملے میں اقتدار مخالف رجحان نظر نہیں آتا۔

راہول گاندھی نے کہا کہ ووٹ جمہوریت کی بنیاد ہے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹ کا تحفظ آئین کے تحفظ کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ووٹ تباہ ہوجائے تو آئین بھی بے اثر ہوجاتا ہے، قوانین کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے اور ادارے بے معنی ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے اپنے ’ووٹ چوری‘ کے الزام کو دہراتے ہوئے کہا، ’’ووٹ چوری کے بعد قانون چوری اور قانون چوری کے بعد اداروں کی چوری ہوتی ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے ذریعے منتخب ہونے والے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے بنائے گئے قوانین بھی غیر قانونی ہوں گے۔

راہول گاندھی کی پریس کانفرنس سے ایک روز قبل ’انڈین ایکسپریس‘ نے ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ انتخابی فہرستوں اور دیگر معاملات سے متعلق کمیشن کے نام پر لیے گئے فیصلوں پر اعتراضات درج کرائے۔ رپورٹ میں SIR، ووٹرز کے نام شامل کرنے اور حذف کرنے، فارم 6 اور انتخابی ڈیٹا تک رسائی سمیت مختلف معاملات کا ذکر کیا گیا۔

اسی تنازع کے درمیان کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے بھی جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے اور انہیں 48 گھنٹے کی مہلت دی ہے۔ CJP کے قومی کنوینر ابھجیت دیپکے اور شریک کنوینرز سورَو داس اور آشوتوش رانکا نے کہا کہ اگر گیانیش کمار نے استعفیٰ نہیں دیا تو پارٹی ملک گیر احتجاج شروع کرے گی اور دہلی میں غیر معینہ مدت کا دھرنا دے گی۔ پارٹی نے 'الیکشن کمیشن ٹھیک کرو' کے نام سے ملک گیر مہم شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔


Share: