ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو پولیس کمشنر کا بیان : سہاس شیٹی، اشرف مرڈر کیس کی تحقیقات سائنٹفک طریقے سے ہو رہی ہے - شکوک پیدا کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا

منگلورو پولیس کمشنر کا بیان : سہاس شیٹی، اشرف مرڈر کیس کی تحقیقات سائنٹفک طریقے سے ہو رہی ہے - شکوک پیدا کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا

Wed, 25 Jun 2025 12:08:33    S O News
منگلورو پولیس کمشنر کا بیان : سہاس شیٹی، اشرف مرڈر کیس کی تحقیقات سائنٹفک طریقے سے ہو رہی ہے - شکوک پیدا کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا

منگلورو ، 25 / جون (ایس او نیوز) بجپے میں سہاس شیٹی قتل اور کوڈوپو میں ہجومی تشدد کے ذریعے کیے گئے اشرف کے قتل سے متعلقہ تحقیقات کے بارے میں سوشیل میڈیا میں چل رہی قیاس آرائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے سٹی پولیس کمشنر سدھیر شیٹی نے بتایا کہ ان دونوں قتل کی تحقیقات پوری طرح سائنٹفک طریقے سے چل رہی ہیں ۔ اگر کسی کے پاس کوئی بھی ٹھوس ثبوت ہو تو تحقیقاتی ٹیم کو فراہم کیا جائے ۔
    
انہوں نے بتایا کہ سہاس شیٹی قتل کی تحقیقات کا کام فی الحال این آئی اے کو سونپا گیا ہے ۔ جبکہ اشرف کے قتل کا معاملہ پولیس کے زیر تفتیش ہے۔ تا حال 100 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے ۔ اس لئے عوام کو چاہیے کہ اس تفتیش کے بارے میں خواہ مخواہ قیاس آرائیاں کرتے ہوئے سوشیل میڈیا پر شکوک و شبہات والے منفی تبصرے پوسٹ نہ کریں بلکہ اگر کسی کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہو تو تحقیقاتی افسران تک پہنچائیں ۔
    
انہوں نے کہا کہ قانون سے اوپر کوئی نہیں ہے ۔ ہم کسی بھی قسم کے ثبوت یا اشارے کو نظر انداز نہیں کر رہے ہیں ۔ لیکن اگر کوئی تحقیقات کی سمت بدلنے اور عوام کو گمراہ کرنے کے مقصد سے بے بنیاد افواہیں پھیلانے  کا کام کرتا ہے تو اس کو بخشا نہیں جائے گا اور قانونی طور پر وہ ملزمین میں شامل ہو جائے گا ۔
    
پولیس کمشنر نے بتایا کہ ان دونوں معاملات کی تحقیقات پوری شفافیت کے ساتھ  جاری ہے ۔ دیگر معاملات میں بھی ہم قانون کی پابندی کے ساتھ ہی کارروائی کرتے ہیں ۔ کسی بھی بے قصور کو تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے ۔ اسی طرح قصور کرنے والوں چھوڑنا بھی نہیں چاہیے ۔ 
    
انہوں نے کہا کہ سہاس شیٹی معاملے میں تین چار قسم کے شکوک و شبہات سوشیل میڈیا پر ظاہر کیے جا رہے ہیں ۔ مثلاً ملزموں کے فرار ہونے میں دو خواتین کا کردار ہونے اور ان سے تفتیش نہ کرنا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں پچاس سے زیادہ افراد موجود ہونے کے باوجود ان سب کو گرفتار نہ کرنا وغیرہ شامل ہے ۔ ہم نے ان تمام معاملات کی گہرائی سے جانچ کی ہے اور جہاں کہیں بھی ذرا سا شبہ باقی ہے اس کی جانچ کے لئے تفتیشی افسران کو اس مقام کا ویڈیو فوٹیج فراہم کیا گیا ہے ۔
    
اشرف مرڈر کیس کے تعلق سے بھی پولیس کمشنر نے بتایا کہ موقع پر جمع تمام افراد کو ملزم نہیں بنایا جا سکتا ہے ۔ ابتدائی تفتیش کے دوران لاش کے قریب موجود چپل اور شوز کی بنیاد پر ملزمین کو تلاش کرنے کا معاملہ کیا گیا ہے ۔ ہم نے پوری طرح سائنٹفک انداز میں تفتیش کی ہے ۔ اب بھی دو دن کے اندر اس معاملے سے متعلق کوئی ثبوت ہمارے حوالے کرنا چاہتا ہے تو کر سکتا ہے ۔ اس قتل کے لئے اکسانے میں سابق کارپوریٹر کے شوہر کا ہاتھ ہونے اور اس کے حملے میں شامل ہونے کے بارے میں تا حال ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملا ہے ۔ تفتیش ابھی چل رہی ہے ۔ اگر کوئی ثبوت ملا تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ۔ 
    
لیگل آفیسرس کی نامزدگی :منگلورو سٹی پولیس کمشنر سدھیر ریڈی نے بتایا کہ فرقہ وارانہ بنیاد پر ہوئے قتل میں ملوث ملزمین کو عدالت میں کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ان کے خلاف کیس ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ قانونی طور پر نتیجہ خیز پیروی کے لئے ریاستی حکومت نے چار لیگل آفیسرس کو نامزد کیا ہے ، جن میں ریاستی پبلک پراسیکیوٹر بی اے بیلیپّا، ریاستی پبلک پراسیکیوٹر ۲ وجئے کمار مجگے، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل  پردیپ سی ایس اور ایس اسماعیل ذبیح اللہ شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ نوتشکیل شدہ اسپیشل فورس کے اہلکاروں کو بھی تربیت دینے کا کام جاری ہے ۔ 
    
اسٹیج سے گھسیٹا جا سکتا ہے : پولیس کمشنر نے یہ بھی کہا کہ عوام کو یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ  نفرت انگیز تقریر کرنے والوں کو آسانی سے ضمانت ہو جاتی ہے ۔ ایسے مقررین کو اسٹیج سے گھسیٹ کر نیچے اتارنے میں پولیس کے لئے کوئی دشواری نہیں ہے ۔ پولیس سچائی کے لئے شفافیت کے ساتھ اپنی کارروائی انجام دیتی ہے ۔ جمہوریت میں بولنے کی آزادی ضرور ہے لیکن باتوں کو رخ بدلتا ہے تو پھر ملک کے تعزیری قانون کے تحت اس پر قدغن لگانے کی بھی گنجائش موجود ہے ۔ 


Share: