ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / لکھنؤ میں 68,500 اسسٹنٹ ٹیچر امیدواروں کا احتجاج، بی جے پی دفتر میں داخل ہوکر ’ریزرویشن گھوٹالہ‘ کے نعرے

لکھنؤ میں 68,500 اسسٹنٹ ٹیچر امیدواروں کا احتجاج، بی جے پی دفتر میں داخل ہوکر ’ریزرویشن گھوٹالہ‘ کے نعرے

Thu, 24 Sep 2026 17:56:23    S O News
لکھنؤ میں 68,500 اسسٹنٹ ٹیچر امیدواروں کا احتجاج، بی جے پی دفتر میں داخل ہوکر ’ریزرویشن گھوٹالہ‘ کے نعرے

لکھنؤ  ، 24 /ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی)لکھنؤ واقع بی جے پی کے ریاستی ہیڈکوارٹر میں اس وقت افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا، جب 68,500 اسسٹنٹ ٹیچر بھرتی کے تقریباً 50 امیدوار احتجاج کرتے ہوئے دفتر کے اندر پہنچ گئے۔ اس دوران وہ زمین پر لیٹ کر احتجاج کرنے لگے۔ وہ سبھی سر پر ’ریزرویشن گھوٹالہ‘ لکھی ہوئی ٹوپی پہنے تھے اور زور زور سے سیٹیاں بجا کر مخالفت کرتے ہوئے تقریباً نصف گھنٹے تک ہنگامہ اور نعرے بازی کرتے رہے۔ بعد میں پولیس نے کسی طرح سب کو باہر نکالا۔

بتایا جا رہا ہے کہ بی جے پی دفتر میں داخل ہو کر امیدوار مسلسل اپنے مطالبات کے حق میں حکومت کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاج کا طریقہ بھی اپنے آپ میں خاص تھا۔ امیدوار پہلے بی جے پی دفتر میں داخل ہوئے اور پھر زمین پر لیٹ کر مخالفت شروع کر دی۔ ان کے ہاتھوں میں تختیاں تھیں، جن پر لکھا تھا کہ ’ریزرویشن گھوٹالے پر پسماندہ طبقات کے رہنما خاموش کیوں ہیں؟‘ کئی امیدواروں نے سر پر ’ریزرویشن گھوٹالہ‘ لکھی ہوئی ٹوپی بھی پہن رکھی تھی۔

بتایا جا رہا ہے کہ 68,500 اسسٹنٹ ٹیچر بھرتی کے امیدواروں نے اپنے گلے میں بی جے پی کے پٹکے پہن رکھے تھے۔ اس وجہ سے انہیں بی جے پی دفتر میں آسانی سے داخلہ مل گیا۔ داخلہ ملنے کے بعد دیگر امیدوار بھی اندر داخل ہو گئے اور اچانک زمین پر لیٹ کر احتجاج شروع کر دیا۔ جب تک حفاظتی اہلکار کچھ سمجھ پاتے، تب تک 50 سے زیادہ امیدوار احتجاج کرنے لگے اور ریزرویشن گھوٹالے کا الزام لگانے لگے۔ اس کے ساتھ ہی وہ سیٹیاں بھی بجانے لگے۔ امیدواروں کا الزام ہے کہ اسسٹنٹ ٹیچر بھرتی میں ریزرویشن سے متعلق بے ضابطگیوں کی وجہ سے اہل امیدواروں کو ان کا حق نہیں ملا۔ وہ طویل عرصے سے بھرتی کے عمل میں ریزرویشن کے ضابطوں سے متعلق تنازعہ کے حل اور تقرری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ 68,500 اسسٹنٹ ٹیچر بھرتی کا معاملہ 2018 کی بھرتی کے عمل سے جڑا ہوا ہے۔ احتجاج کرنے والے امیدواروں کا کہنا ہے کہ ریزرویشن کے نظام کو نافذ کرنے میں مبینہ بے ضابطگیوں کی وجہ سے کئی اہل امیدوار انتخاب اور تقرری سے محروم رہ گئے۔ امیدوار ریاستی پسماندہ طبقہ کمیشن سے متعلق احکامات نافذ کرنے اور ریزرویشن سے متعلق تنازعہ حل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ او بی سی امیدواروں سمیت ریزرو زمرے کے امیدواروں کو بھرتی کے عمل میں ان کا پورا حق نہیں ملا۔

یہ احتجاج اچانک شروع نہیں ہوا ہے۔ 68,500 بھرتی کے امیدوار گزشتہ کئی دنوں سے لکھنؤ کے ’ایکو گارڈن‘ میں دھرنا دے رہے تھے۔ 17 ستمبر کو احتجاج کے 17ویں دن امیدواروں نے خون کا عطیہ دے کر وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کے نام خون سے خط لکھے اور معاملے میں مداخلت کا مطالبہ کیا تھا۔ 12 ستمبر کو بھی امیدوار نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کی رہائش گاہ تک پہنچ گئے تھے۔ وہاں تقریباً نصف گھنٹے تک نعرے بازی ہوئی تھی اور پولیس کے ساتھ دھکا مکی کی صورت حال بھی پیدا ہو گئی تھی۔

یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے، جب اتر پردیش حکومت مسلسل روزگار اور سرکاری تقرریوں کے سلسلے میں اپنے کاموں کو پیش کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے حال ہی میں گورکھپور میں کہا تھا کہ حکومت نوجوانوں کو مسلسل سرکاری نوکریاں فراہم کر رہی ہے۔ دوسری طرف ٹیچر بھرتی سے متعلق مختلف معاملات میں امیدواروں کا احتجاج جاری ہے۔ یعنی ایک طرف حکومت کی جانب سے بھرتی اور روزگار کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف امیدوار سڑکوں پر اتر کر زیر التوا بھرتی اور تقرری کا سوال اٹھا رہے ہیں۔


Share: