ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / مہمان اداریہ / رام مندر میں لوٹ؛ کنڑا روزنامہ وارتا بھارتی کا اداریہ

رام مندر میں لوٹ؛ کنڑا روزنامہ وارتا بھارتی کا اداریہ

Sat, 27 Jun 2026 11:23:05    S O News

ایودھیا کا رام مندر ایک بار پھر ملک بھر میں خبروں کا مرکز بن گیا ہے۔ افتتاح کے محض دو برس بعد ہی یہ الزامات سامنے آ رہے ہیں کہ رام مندر کے نام پر جمع کیے گئے سیکڑوں کروڑ روپے لوٹ لئے گئے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ مبینہ لوٹ کسی بیرونی حملہ آور، جیسے محمود غزنوی، محمد غوری یا بابر نے نہیں کی، بلکہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ اس میں خود مندر کے انتظامی نظام سے وابستہ افراد ملوث ہیں۔

رام جنم بھومی مندر کے لیے جمع کیے گئے عطیات میں کروڑوں روپے کے غبن کے الزام میں آٹھ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار شدگان میں شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے کے قریبی معاون رام شنکر یادو کے علاوہ لوک کش مشرا، انوکل مشرا، اویناش شکلا، منیش یادو، رام شنکر مشرا، سبھاش چندر سریواستو اور کرونیش پانڈے شامل ہیں۔ تین رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کی ابتدائی رپورٹ اتر پردیش حکومت کو پیش کیے جانے کے فوراً بعد یہ گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ اس معاملے میں مزید گرفتاریاں بھی خارج از امکان نہیں ہیں۔ ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی انیل مشرا نے بھی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ایودھیا میں رام مندر، افتتاح کے دن سے ہی  کسی نہ کسی تنازع کا شکار رہا ہے۔ چار ممتاز شنکراچاریوں نے نامکمل مندر میں پران پرتشتھا کی مخالفت کرتے ہوئے افتتاحی تقریب میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ اس وقت بھی یہ الزام لگایا گیا تھا کہ مرکزی حکومت نے انتخابی فائدے کے پیش نظر جلد بازی میں مندر کا افتتاح کیا۔ مذہبی حلقوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پران پرتشتھا کی قیادت پر بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔ ابتدا ہی سے مقامی لوگوں نے مندر کی تعمیر میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی تھی، لیکن حکومت نے ان الزامات کو نظر انداز کر دیا۔ اب مندر کے اندر ہی کروڑوں روپے کی مبینہ لوٹ کے انکشافات نے پورے ملک کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ رام کے نام پر مندر کی ذمہ داری سنبھالنے والوں پر ہی بدعنوانی کے الزامات لگنے سے رام بھکت شدید خفت اور شرمندگی محسوس کر رہے ہیں، جبکہ آر ایس ایس جیسی تنظیمیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ اتر پردیش حکومت نے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے بجائے سوال اٹھانے والوں سے ہی بابری مسجد کے لیے جمع کیے گئے عطیات کا حساب پوچھ کر اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔سب سے پہلے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی پون پانڈے نے تقریباً آٹھ کروڑ روپے کے عطیات میں خرد برد کا الزام عائد کیا تھا۔

حکومت کو فوری طور پر اس معاملے کی جانچ کرنی چاہیے تھی، لیکن اس کے بجائے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ناقدین پر الزام لگایا کہ وہ رام مندر کے خلاف افواہیں پھیلا رہے ہیں اور مندر کا وجود انہیں برداشت نہیں ہو رہا۔ بعد ازاں حزب اختلاف کے دیگر رہنماؤں نے بھی یہی معاملہ اٹھایا۔ اکھلیش یادو نے ایک پریس کانفرنس میں رام مندر سے متعلق دیگر مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر بھی سنگین الزامات عائد کیے۔ اسی دوران عطیہ دینے والی متعدد تنظیموں نے بھی اپنی تشویش ظاہر کرنا شروع کر دی۔

سندھی برادری نے حال ہی میں الزام لگایا کہ مندر کو عطیہ کی گئی 200 چاندی کی اینٹوں کا کوئی حساب موجود نہیں ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ کیسلز گروپ آف کمپنیز نے 2021 میں سندھی برادری کی جانب سے ایک ایک کلو وزنی 200 چاندی کی اینٹیں اُس وقت کے ٹرسٹ جنرل سکریٹری چمپت رائے کے حوالے کی تھیں، مگر اس وقت کوئی رسید جاری نہیں کی گئی اور آج تک ان اینٹوں کے بارے میں کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح شیو سینا کے راجیہ سبھا رکن سنجے راوت نے بھی سوال اٹھایا کہ ان کی جماعت کی جانب سے عطیہ کی گئی چار کلو وزنی چاندی کی اینٹ کہاں گئی۔  کئی عطیہ دہندگان بھی اپنے عطیات کا حساب مانگنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ معاملہ عدالت پہنچنے کے بعد ہی ریاستی حکومت نے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی، تاہم صرف آٹھ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے معاملے کو جلد نمٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

موجودہ الزامات اس مبینہ گھوٹالے کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہیں۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 200 کروڑ روپے سے زائد رقم کے علاوہ سونا، چاندی اور ہیرے کے زیورات بھی غائب ہونے کے الزامات ہیں۔ مزید یہ کہ رام مندر کے اطراف زمینوں کے سودوں میں بھی بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور کروڑوں روپے کے گھوٹالوں کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے کی مبینہ بدعنوانی صرف چند ٹرسٹیوں یا مندر کے اہلکاروں کے بس کی بات نہیں ہو سکتی، کیونکہ رام مندر کا براہ راست سیاسی تعلق بھی رہا ہے۔ اسی لیے اس میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ریاستی اور مرکزی سطح کے بااثر سیاست دان بھی اس معاملے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اس پورے معاملے کی تحقیقات کسی آزاد تحقیقاتی ایجنسی کے سپرد کی جانی چاہئیں۔

سوال یہ ہے کہ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران رام مندر تحریک کے نام پر آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے جو عطیات جمع کیے، ان کا کیا ہوا اور ان میں سے کتنی رقم مبینہ طور پر خرد برد ہوئی۔  افسوس ہوتا ہے کہ اتنے سنگین الزامات کے باوجود ہندوتوا تنظیمیں خاموش ہیں۔ کیا ایودھیا میں رام مندر اسی لیے تعمیر کیا گیا تھا کہ سیکڑوں کروڑ روپے کی مبینہ لوٹ مار ہو؟  یہ وہ سوال ہے جو اب خود مخلص رام بھکت بھی پوچھنے لگے ہیں۔


Share: