ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / مہمان اداریہ / بھٹکل میں ’مورین کٹے‘ تنازعے سے آخر فائدہ کس کو؟

بھٹکل میں ’مورین کٹے‘ تنازعے سے آخر فائدہ کس کو؟

Wed, 27 May 2026 21:10:06    S O News
بھٹکل میں ’مورین کٹے‘ تنازعے سے آخر فائدہ کس کو؟

بھٹکل 27/مئی (ایس او نیوز): بھٹکل کے ’مورین کٹے‘ تنازعے کے تعلق سے سرسی سے شائع ہونے والے ایک کنڑا روزنامہ میں ہوناور کے صحافی جے یو بھٹ نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر ایسے تنازعات سے فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟ مضمون نگار کے مطابق ’مورین کٹے‘ اور اس نوعیت کے دیگر تنازعات سے نہ کسی سماج کو فائدہ ہوا ہے اور نہ ہی کسی کمیونٹی کو، بلکہ اس سے ہمیشہ سیاسی جماعتوں نے ہی فائدہ اٹھایا ہے۔

اپنے مضمون میں جے یو بھٹ نے لکھا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے پرانے مورین کٹے کی جگہ نیا کٹا تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن چار برس گزرنے کے باوجود تعمیراتی کام مکمل نہیں ہوسکا۔ اسی وجہ سے مقامی لوگوں نے خود تعمیر شروع کردی۔ مضمون نگار کے مطابق ایسے حالات میں ایک ادارے (تنظیم ) کے صدر کی جانب سے کٹے کی مخالفت کرنا مناسب نہیں تھا، جبکہ ہندو تنظیموں کی طرف سے اس مسئلے کو فرقہ وارانہ رنگ دینا بھی درست اقدام نہیں ہے۔

مضمون نگار نے اپنے آرٹیکل میں سابق وزراء مرحوم جوکاکو شمس الدین اور ایس۔ ایم۔ یحییٰ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ مسلم اکثریتی بھٹکل حلقۂ اسمبلی سے منتخب ہونے کے باوجود انہوں نے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر کام کیا۔ اُن کے دور میں مذہبی کشیدگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ یہاں تک کہ بابری مسجد۔ایودھیا تنازعے کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں کشیدگی دیکھی گئی، مگر بھٹکل پُرامن رہا۔

آگے لکھا ہے کہ بھٹکل میں ہندو اور مسلمان برادریوں کے درمیان طویل عرصے سے ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی فضا قائم رہی ہے، لیکن بعد کے برسوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور قتل و غارت کے واقعات نے عوامی زندگی کو شدید متاثر کیا، جبکہ ان حالات سے سیاسی فائدہ صرف جماعتوں کو حاصل ہوا۔

انہوں نے یاد دلایا ہے کہ بی جے پی لیڈران ڈاکٹر چتّرنجن اور تیمپا نائک کے قتل کے بعد اُس وقت کے بی جے پی قائد ایل۔ کے۔ اڈوانی بھٹکل آئے تھے، جبکہ ہوناور میں پریش میستا کی موت کے بعد، جسے قتل کا معاملہ قرار دیا گیا تھا، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی علاقے کا دورہ کیا تھا۔ تاہم مضمون نگار کے مطابق ان دوروں سے عوام کو انصاف کی یقین دہانیوں کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا، جبکہ ان واقعات سے انتخابی فائدہ ضرور اٹھایا گیا۔ دوسری جانب بھٹکل کے عوام کو معمول کی زندگی کی طرف واپس آنے میں برسوں لگ گئے۔

مضمون نگار کا کہنا ہے کہ موجودہ تنازعے کو غیر ضروری طور پر بڑھانے کے بجائے ضلعی انتظامیہ کو اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے کٹے کی تعمیر مکمل کرنی چاہیے تھی، جبکہ سماجی و مذہبی تنظیموں کو بھی باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق اس معاملے کو مذہبی تصادم کی شکل دینا نہ بھٹکل کے مفاد میں ہے اور نہ ہی پورے ضلع کے۔

مضمون میں سوشل میڈیا کے بڑھتے اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ بھٹ کے مطابق آج کے دور میں اشتعال انگیز پوسٹس اور افواہیں کسی بھی حساس علاقے کا ماحول خراب کرسکتی ہیں، اس لیے بھٹکل جیسے حساس خطے میں عوام کو صبر، تحمل اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

تحریر میں بھٹکل کے ماضی کے فرقہ وارانہ فسادات، فائرنگ کے واقعات اور ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات سے نہ مذہب کو فائدہ پہنچا اور نہ ہی عوام کو، بلکہ عام شہریوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔ مضمون نگار کے مطابق آج بھی بعض حلقے اس مسئلے کو ’’ہندو عقیدے پر حملہ‘‘ قرار دے کر اشتعال پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام طبقات مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں۔

مضمون کے اختتام پر خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ’کٹے‘ جیسے نسبتاً چھوٹے مسئلے کو حد سے زیادہ بڑھایا گیا تو یہ اجتماعی جنون کی شکل اختیار کرسکتا ہے، جو پورے معاشرے کے لیے خطرناک ہوگا۔ اسی لیے بھٹکل کے عوام کو بردباری، صبر اور باہمی ہم آہنگی کو ترجیح دینی چاہیے، ورنہ ماضی کی تلخ یادیں دوبارہ لوٹ سکتی ہیں۔


Share: