ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں بارش کے ساتھ پھر پہاڑی کھسکنے کا خطرہ؛ 14 مقامات کی نشاندہی، 78 گھروں کو نوٹس جاری

بھٹکل میں بارش کے ساتھ پھر پہاڑی کھسکنے کا خطرہ؛ 14 مقامات کی نشاندہی، 78 گھروں کو نوٹس جاری

Mon, 23 Jun 2025 19:50:20    S O News
بھٹکل میں بارش کے ساتھ پھر  پہاڑی کھسکنے کا خطرہ؛ 14 مقامات کی  نشاندہی، 78 گھروں کو نوٹس جاری

بھٹکل، 23 جون (ایس او نیوز): مانسون کی آمد کے ساتھ ہی بھٹکل میں ایک بار پھر زمین یا پہاڑی  کھسکنے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جو اب ہر سال کی طرح معمول بنتا جا رہا ہے۔ اس بار بھی تعلقہ انتظامیہ نے احتیاطی اقدام کے طور پر 14 علاقوں کو خطرناک قرار دیتے ہوئے وہاں موجود 78 گھروں کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

خطرے سے دوچار مقامات میں کوپّا  اور کونار میں تین جگہیں،  ماروکیری، وینکٹاپور اور ہبلے-کوکنیئر میں دو دو، ماوین کوروے-تلگوڈو اور مُٹھّلی میں ایک ایک مقامات شامل ہیں۔ ان کے علاوہ چوتھنی، ہبلے، تنگن گنڈی، پورورگا اور شیرالی ندی کے کنارے رہائش پذیر کئی خاندان بھی خوف کے سائے میں جی رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں نیشنل ہائی وے کی ناقص تعمیراتی کام نے خاص طور پر شمش الدین سرکل، منکولی اور رنگین کٹّے علاقوں میں صورتحال کو مزید خراب کیا ہے، جہاں بارش کے دوران  پوری نیشنل ہائی وے تالاب کا منظر پیش کرتی ہے اور یہ  مسئلہ اب ہر سال  عام ہوتا جا رہا ہے۔

اگرچہ تعلقہ انتظامیہ نے  زمین اور پہاڑی کھسکنے  والے خطرناک  علاقوں میں واقع گھروں کو نوٹس جاری کیے ہیں، مگر بیشتر مکینوں نے جگہ خالی کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کی وجہ سے حکام کو تشویش لاحق ہے۔

محکمہ ریلوے  کا مثالی کام:

کڈوین کٹے میں اکثر  پہاڑی کھسکنے کے باعث کونکن ریلوے کی خدمات متاثر ہوتی رہی ہیں، لیکن یہاں محکمہ  ریلوے  نے قابلِ ستائش اقدامات کیے ہیں۔ پہاڑی کو خاص زاویے سے کاٹ کر مٹی کی مضبوطی کو یقینی بنایا گیا ہے، اور اوپر کی جانب ایک نکاسی آب کی نہر تعمیر کی گئی ہے  تاکہ بارش کا پانی ریلوے ٹریک تک نہ پہنچے۔ کئی جگہوں پر اوپر سے نیچے تک پلاسٹک شیٹ (تارپولین) بچھا دی گئی ہے تاکہ مٹی کھسکنے سے روکی جا سکے۔

مگر بدقسمتی سے، دیگر خطرناک علاقوں میں ایسا کوئی احتیاطی بندوبست نظر نہیں آتا۔ ترقیاتی کاموں کے دوران نکالی گئی مٹی اور پتھروں کو کئی مقامات پر جوں کا توں چھوڑ دیا گیا ہے، جس سے بارش میں کیچڑ اور زمین کھسکنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ کچھ جگہوں پر تو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود مٹی صاف نہیں کی گئی ہے۔

تین سال قبل مُٹھّلی میں پیش آیا لینڈ سلائیڈنگ کا سانحہ، جس میں چار افراد جاں بحق ہوئے تھے، آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ ہر سال مانسون کے آغاز کے ساتھ ہی ضلعی اور تعلقہ سطح پر نوٹس جاری کیے جاتے ہیں، مگر عملی اقدامات کی سخت کمی ہے، خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے جو پہاڑوں کے دامن میں زندگی گزار رہے ہیں۔

عوام اور ماحولیاتی ماہرین نے ضلعی ہیڈکوارٹر سے چلنے والے معدنیات و ارضیات کے محکمہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ زمینی خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے سیاسی دباؤ میں کام کرتا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر ماحولیات اور قدرتی خطوں کے تحفظ کے لیے اجتماعی شعور بیدار نہیں کیا گیا، تو ایک دن پہاڑ خود انسانوں پر آ گریں گے۔ ایک مقامی شہری نے کہا: "اگر قبل از وقت اقدامات نہیں کیے جاتے تو پھر برسات میں شور مچانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، !"

Click here for report in English


Share: