ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: گرفتاری کی وجوہات تحریری طور پر بتانا لازمی، خلاف ورزی پر گرفتاری غیر قانونی

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: گرفتاری کی وجوہات تحریری طور پر بتانا لازمی، خلاف ورزی پر گرفتاری غیر قانونی

Tue, 22 Sep 2026 22:53:38    S O News
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: گرفتاری کی وجوہات تحریری طور پر بتانا لازمی، خلاف ورزی پر گرفتاری غیر قانونی

نئی دہلی، 22 ستمبر (ایس او نیوز): سپریم کورٹ نے گرفتاری اور شخصی آزادی سے متعلق ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی شخص کو گرفتار کرتے وقت اسے گرفتاری کی وجوہات تحریری طور پر اور ایسی زبان میں فراہم کرنا لازمی ہے جسے وہ سمجھتا ہو۔ عدالت نے کہا کہ یہ محض قانونی کارروائی یا رسمی تقاضا نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 22(1) کے تحت حاصل ایک بنیادی آئینی حق ہے۔ اگر گرفتار شخص کو مقررہ طریقے کے مطابق گرفتاری کی وجوہات فراہم نہیں کی جاتیں تو گرفتاری اور اس کے بعد کی ریمانڈ کارروائی غیر قانونی اور غیر آئینی قرار پائے گی۔

یہ فیصلہ جسٹس اُجّل بھویان اور جسٹس اتل ایس چندرکر کی بنچ نے Jaskaran Jeet Singh Deol v. State of Punjab معاملے میں 21 ستمبر 2026 کو سنایا۔ عدالت نے اس موقع پر نہ صرف گرفتاری کے وقت تحریری وجوہات فراہم کرنے کے اصول کو دوبارہ واضح کیا بلکہ غیر قانونی گرفتاری کے بعد دوبارہ گرفتاری کے لیے بھی سخت حفاظتی طریقہ کار مقرر کیا ہے۔

معاملہ کیا تھا؟
یہ معاملہ پنجاب کے جَسکرن جیت سنگھ دیول سے متعلق تھا۔ پولیس نے ان کے خلاف ایک نابالغ لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال کے الزام میں  (BNS) اور POCSO Act کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ انہیں 17 مئی 2026 کو صبح تقریباً 7:54 بجے گرفتار کیا گیا اور اگلے دن 18 مئی کو دوپہر تقریباً 12 بجے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔

مجسٹریٹ نے نوٹ کیا کہ گرفتاری کے وقت ملزم کو گرفتاری کی تحریری وجوہات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔ اس بنیاد پر مجسٹریٹ نے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری رہائی کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر تفتیشی ایجنسی کو دوبارہ حراست درکار ہو تو اسے قانون کے مطابق تحریری وجوہات فراہم کرنے کے بعد مناسب طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔

اس معاملے میں ایک دوسرا آئینی مسئلہ بھی سامنے آیا۔ سپریم کورٹ کے مطابق ملزم کو گرفتاری کے 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تھا، لیکن اس معاملے میں پیشی 24 گھنٹے سے زیادہ عرصے بعد ہوئی۔ آئین کا آرٹیکل 22(2) بھی کسی گرفتار شخص کو 24 گھنٹے سے زیادہ حراست میں رکھنے سے پہلے مجسٹریٹ کی اجازت کو لازمی قرار دیتا ہے۔

صرف زبانی طور پر وجہ بتانا کافی نہیں
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ عام حالات میں گرفتاری کی وجوہات تحریری شکل میں فراہم کی جانی چاہئیں اور وہ ایسی زبان میں ہونی چاہئیں جسے گرفتار شخص سمجھ سکے۔ عدالت نے اس اصول کو تمام جرائم اور تمام متعلقہ قوانین پر لاگو قرار دیا ہے۔

البتہ عدالت نے پہلے کے فیصلے Mihir Rajesh Shah v. State of Maharashtra میں طے کیے گئے ایک محدود استثنا کو بھی برقرار رکھا۔ اگر کسی غیر معمولی صورت حال میں گرفتاری کے وقت تحریری وجوہات فراہم کرنا عملی طور پر ممکن نہ ہو، مثلاً کوئی جرم عین واردات کے دوران ہوا ہو، تو پولیس فوری طور پر زبانی طور پر وجوہات بتا سکتی ہے۔ تاہم تحریری وجوہات بعد میں معقول مدت کے اندر اور ہر صورت میں مجسٹریٹ کے سامنے ریمانڈ کے لیے پیش کیے جانے سے کم از کم دو گھنٹے قبل فراہم کرنا ہوں گی۔ ریمانڈ کے کاغذات میں بھی گرفتاری کی وجوہات شامل ہونی چاہئیں۔

اگر یہ تقاضا پورا نہ کیا جائے تو عدالت کے مطابق گرفتاری اور اس کے بعد کی ریمانڈ کارروائی غیر قانونی ہوجائے گی اور گرفتار شخص کو رہا کرنا ہوگا۔

UAPA اور PMLA جیسے سخت اور خصوصی قوانین بھی مستثنیٰ نہیں
فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ عدالت نے واضح کیا کہ یہ آئینی تحفظ صرف عام فوجداری مقدمات تک محدود نہیں ہے۔ UAPA اور PMLA جیسے سخت اور خصوصی قوانین کے تحت گرفتار افراد کو بھی گرفتاری کی تحریری وجوہات فراہم کرنا ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے سابقہ فیصلوں، خصوصاً Pankaj Bansal اور Prabir Purkayastha کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گرفتاری کی وجوہات معلوم ہونا اس لیے ضروری ہے تاکہ گرفتار شخص اپنے وکیل سے مؤثر مشورہ کرسکے، پولیس ریمانڈ کی مخالفت کرسکے اور ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کرسکے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ بعد میں چارج شیٹ داخل ہوجانے یا عدالت کی جانب سے اس کا نوٹس لیے جانے سے ابتدائی طور پر غیر آئینی گرفتاری خود بخود قانونی نہیں ہوجاتی۔

غیر قانونی گرفتاری کے بعد دوبارہ گرفتاری کے لیے مجسٹریٹ کی اجازت ضروری
سپریم کورٹ نے غیر قانونی گرفتاری کے بعد دوبارہ گرفتاری کے معاملے میں بھی اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ اگر کسی شخص کو آرٹیکل 22(1) کی خلاف ورزی کے باعث رہا کیا جاتا ہے لیکن تفتیشی ایجنسی اب بھی اس کی تحویل میں پوچھ گچھ کو ضروری سمجھتی ہے تو پولیس خود سے اسے دوبارہ گرفتار نہیں کرسکتی۔

اس کے لیے متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے درخواست دینی ہوگی۔ درخواست سے پہلے گرفتار شخص کو گرفتاری کی تحریری وجوہات فراہم کرنا ہوں گی۔ درخواست میں یہ بھی بتانا ہوگا کہ پہلی گرفتاری کے وقت وجوہات کیوں فراہم نہیں کی گئیں اور اب دوبارہ گرفتاری یا پولیس تحویل کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ایسی درخواست پر تفتیشی افسر کے فوری اعلیٰ افسر کی منظوری یا توثیق ضروری ہوگی۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ ایسے معاملے میں تفتیش کسی دوسرے افسر کے حوالے کی جائے اور پہلی گرفتاری میں آئینی تقاضا پورا نہ کرنے والے پولیس اہلکار کے خلاف محکمانہ انکوائری شروع کی جائے۔ اگر انکوائری میں قصور ثابت ہوتا ہے تو متعلقہ پولیس افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی اور اس کی سروس بک میں اندراج بھی ہوسکتا ہے۔

سنگین جرم کا الزام بھی آئینی حق ختم نہیں کرتا
عدالت نے خاص طور پر اس دلیل کو مسترد کیا کہ کسی شخص پر سنگین یا انتہائی سنگین جرم کا الزام ہو تو گرفتاری کے آئینی تحفظات میں نرمی کی جاسکتی ہے۔ بنچ نے کہا کہ جرم کی نوعیت یا سنگینی آئینی تحفظات کو ختم نہیں کرسکتی اور آئین کے تحت حاصل شخصی آزادی کے تحفظ کو تمام معاملات میں سختی سے نافذ کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 22(1) کے تحت گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کرنے کا حق کوئی معمولی ضابطہ نہیں بلکہ ایک لازمی اور پابند آئینی تحفظ ہے۔ اس کی خلاف ورزی کی صورت میں یہ دیکھنا بھی ضروری نہیں کہ ملزم کو عملی طور پر کتنا نقصان یا prejudice ہوا؛ آئینی تقاضے کی خلاف ورزی بذاتِ خود اہم ہے۔

پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی
سپریم کورٹ نے اس معاملے میں پولیس افسران کی جواب دہی پر بھی زور دیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ پنجاب پولیس نے پہلے ہی متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی شروع کردی تھی؛ ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو معطل کیا گیا جبکہ متعلقہ اسٹیشن ہاؤس افسر کا تبادلہ پولیس لائنز کردیا گیا تھا اور محکمانہ کارروائی بھی جاری تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے کی نقل تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پولیس سربراہان، تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرار جنرلز اور ریاستی جوڈیشل اکیڈمیوں کے ڈائریکٹرز کو بھیجنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ اس آئینی تقاضے پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔


Share: