ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / شدت اختیار کرتا مونتھا طوفان؛ آندھرا اور اڑیسہ میں ہائی الرٹ؛ شام تک ساحل سے ٹکرانے کا امکان

شدت اختیار کرتا مونتھا طوفان؛ آندھرا اور اڑیسہ میں ہائی الرٹ؛ شام تک ساحل سے ٹکرانے کا امکان

Tue, 28 Oct 2025 12:47:24    S O News
شدت اختیار کرتا مونتھا طوفان؛ آندھرا اور اڑیسہ میں ہائی الرٹ؛ شام تک ساحل سے ٹکرانے کا امکان

بھونیشور / امراوتی، 28 اکتوبر (ایس او نیوز):خلیج بنگال میں اُبھرا ہوا ’’مونتھا‘‘ چکرورتی طوفان تیزی سے طاقتور ہوتا جا رہا ہے اور امکان ہے کہ آج (منگل) شام یا رات کے اوقات میں آندھرا پردیش کے کاکیناڈا کے قریب ساحل سے ٹکرا جائے۔ اس خدشے کے پیش نظر اڑیسہ اور آندھرا پردیش کی حکومتوں نے پیشگی حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے ہیں، خطرناک علاقوں سے عوام کو منتقل کیا جا رہا ہے اور بڑی تعداد میں راحت و بچاؤ ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔

اڑیسہ کے محکمۂ محصول و آفاتِ سماوی کے وزیر سریش پجاری نے بتایا کہ ریاست کے جنوبی اضلاع — ملکن گری، کوراپٹ، نبرنگ پور، رایاگڑا، گجپتی، گنجام، کلاحانڈی اور کندھمال — کے نشیبی و پہاڑی علاقوں سے ہزارں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جن میں حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔ ان علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارہ رائٹرس کی رپورٹ کے مطابق اب تک 50 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔

وزیر سریش پجاری کے توسط سے دیگر میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق  1,445 سائیکلون ریلیف کیمپ کھولے گئے ہیں جن میں جانوروں کے لیے بھی خوراک، روشنی، دوائیں اور نگہداشت کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

اڑیسہ کے اسپیشل ریلیف کمشنر ڈی کے سنگھ نے بتایا کہ این ڈی آر ایف، او ڈی آر ایف اور فائر بریگیڈ کی مجموعی 140 ٹیمیں مختلف اضلاع میں تعینات کی گئی ہیں۔ طوفان کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر بجلی بحال کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ اسپتالوں اور پانی سپلائی مراکز میں بیک اَپ پاور سسٹم موجود ہے۔

بھونیشور اور جنوبی و ساحلی اڑیسہ کے کئی علاقوں میں پہلے ہی بارش شروع ہو چکی ہے، جو 28 اور 29 اکتوبر کو تیز ہونے کا امکان ہے۔ گجپتی ضلع کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکومت نے 30 اکتوبر تک سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں اور نو اضلاع کے اسکول و آنگن واڑی مراکز کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔

تمام بندرگاہوں پر وارننگ سگنل نمبر-1 لہرا دیا گیا ہے، اور ماہی گیروں کو 29 اکتوبر تک سمندر میں نہ جانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ گنجام ضلع میں 100 سے زائد آندھرا کے ماہی گیروں کو پناہ دی گئی ہے جو موسم بہتر ہونے کے بعد واپس جائیں گے۔

محکمۂ موسمیات (IMD) کے تازہ ترین بلیٹن کے مطابق ’’مونتھا‘‘ کا مرکز گزشتہ شام پشچمی-وسطی خلیج بنگال پر تھا، جو کاکیناڈا سے تقریباً 450 کلومیٹر جنوب مشرق، وشاکھاپٹنم سے 500 کلومیٹر جنوب اور گوپال پور سے 670 کلومیٹر جنوب میں واقع تھا۔ طوفان 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمال مغرب کی سمت بڑھ رہا ہے، اور آج منگل  تک یہ شدید طوفان میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

محکمہ کا کہنا ہے کہ 28 اکتوبر کی شام یا رات میں یہ طوفان مچھلی پٹنم اور کلنگا پٹنم کے درمیان آندھرا ساحل سے ٹکرائے گا، جہاں ہواؤں کی رفتار 90 سے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔

آندھرا پردیش کے ساحلی اضلاع میں پہلے سے ہی ہائی الرٹ جاری ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعلیٰ چندر بابو نائیڈو سے فون پر گفتگو کر کے مرکز کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ نائیڈو نے ریئل ٹائم گورننس سسٹم (RTGS) کے ذریعے اعلیٰ سطحی اجلاس میں افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ ندی کناروں کو مضبوط بنائیں، سیلاب کے خدشے کے پیش نظر انتظامات کریں اور ہر گھنٹے طوفان کی نقل و حرکت کی نگرانی کریں۔

ریاستی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ہر متاثرہ خاندان کو 3 ہزار روپے نقد، 25 کلو چاول اور دیگر ضروری اشیاء دی جائیں گی۔ طوفان کے اثر سے کرشنا، گنٹور، باپٹلہ، این ٹی آر، پلناڈو اور مغربی گوداوری اضلاع میں اگلے دو دنوں میں شدید بارش کا امکان ہے۔

پیشگی احتیاط کے طور پر ایسٹ کوسٹ ریلوے نے والٹیئر زون کی کئی ٹرینوں کو منسوخ یا موخر کر دیا ہے۔ INCOIS اور IMD کے مطابق آندھرا کے ساحلی علاقوں میں لہروں کی اونچائی 2 سے 4.7 میٹر تک پہنچ سکتی ہے، جو نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔

دوسری جانب، بحرعرب کے وسطی حصے پر بھی ایک نچلا دباؤ پیدا ہوا ہے جو گجرات کے ویراؤل سے تقریباً 570 کلومیٹر جنوب مغرب میں ہے۔ تاہم، یہ ’’مونتھا‘‘ سے الگ موسمی نظام ہے۔

تمل ناڈو میں اگرچہ موسم خشک ہے، لیکن محکمۂ موسمیات نے ترووللور ضلع کے لیے اورنج الرٹ اور چنئی، کنچی پورم، چنگل پٹّو، رانی پیٹ، تھینی، تینکاسی، اور کنیا کماری کے لیے ییلو الرٹ جاری کیا ہے۔


Share: