ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں موسلادھار بارش میں کئی سڑکیں بہہ گئیں، اسکول بسیں راستوں میں ہی پھنس گئیں

بھٹکل میں موسلادھار بارش میں کئی سڑکیں بہہ گئیں، اسکول بسیں راستوں میں ہی پھنس گئیں

Sat, 05 Jul 2025 18:17:47    S O News
بھٹکل میں موسلادھار بارش میں کئی سڑکیں بہہ گئیں، اسکول بسیں راستوں میں ہی پھنس گئیں

بھٹکل، 5 جولائی  (ایس او نیوز): بھٹکل میں مسلسل کئی دنوں سے جاری موسلادھار بارش کا سلسلہ ہفتہ کو بھی شدت کے ساتھ جاری رہا، جس کے نتیجے میں متعدد اہم سڑکیں پانی میں بہہ گئیں۔ صبح کے وقت جب بچے اسکول جانے کی تیاری کر رہے تھے، تو تیز ہواؤں کے ساتھ شروع ہونے والی زوردار بارش نے کئی بچوں کو اسکول جانے سے روک دیا، جبکہ بعض کو بروقت پہنچنے میں شدید دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

بارش کے نتیجے میں بندر روڈ سے ڈونگر پلی اور آسارکیری جانے والی سڑکیں مکمل طور پر متاثر ہو گئیں۔ یہ وہی سڑکیں ہیں جو حال ہی میں تار (دامبر) سے تعمیر کی گئی تھیں اور یو جی ڈی (UGD) کے کام کے بعد عارضی طور پر مٹی ڈال کر بحال کی گئی تھیں۔

bus-stuck-asarkeri-road-2.jpg

بندر روڈ سے آسارکیری کو جوڑنے والا اے پی جے عبدالکلام روڈ پر  جہاں یو جی ڈی پائپ لائن کے لیے کھدائی کے بعد مٹی بھر دی گئی تھی، شدید بارش اس مٹی کو اپنے ساتھ بہا لے گئی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ  راستہ اب  ناقابلِ استعمال  ہوگیا ہے۔

دوپہر کے وقت اسکول بسیں جب طلبہ کو گھروں تک چھوڑنے نکلی تھیں، تو ایک کے بعد ایک دو بسیں انہی کیچڑ زدہ راستوں پر پھنس گئیں۔ دونوں بسوں کے دائیں پہیے زمین میں دھنس گئے، جس کے باعث بسیں اُلٹنے کے قریب پہنچ گئیں۔ ڈرائیوروں نے حاضر دماغی سے بچوں کو پہلے بحفاظت باہر نکالا، پھر ایک بس کو جے سی بی اور دوسری کو لاری کی مدد سے باہر نکالا گیا۔

ایک ڈرائیور نے بتایا کہ جب وہ بندر روڈ سے آسارکیری کی طرف مڑا، تو کچھ ہی دور جا کر بس کے دونوں پہیے دھنس گئے۔ بس اُلٹنے کے قریب تھی مگر فوری قابو پانے سے بڑا حادثہ ٹل گیا۔ اس بس کو باہر نکال کر روانہ کرنے کے کچھ ہی دیر بعد دوسری اسکول بس بھی پھنس گئی، جسے تقریباً ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد نکالا گیا۔

bus-stuck-asarkeri-road-1.jpg

مقامی رہائشیوں نے شکایت کی ہے کہ یو جی ڈی کے کام کے بعد ان راستوں کو صرف عارضی طور پر مٹی سے ڈھانپا گیا تھا، جو  تیز بارش کے  پانی میں ہی بہہ گئی ہے۔ اب یہ راستے اسکول بسوں سمیت عام گاڑیوں کے لیے بھی خطرناک ہو چکے ہیں۔

لوگوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مخدوم کالونی پہاڑی سے بہنے والا پانی انہی سڑکوں سے ندی کی طرف جاتا ہے، جس سے سڑکوں کی حالت مزید بگڑ گئی ہے۔ اس لیے فوری طور پر پکی اور پائیدار سڑک کی تعمیر ضروری ہے۔

عوام نے  میونسپالٹی سمیت  تعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں جگہوں پر کانکریٹ  روڈ  تعمیر کی جائے، تاکہ روزمرہ آمد و رفت محفوظ بنائی جا سکے۔

Click here for report in English


Share: