ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سابق وزیر سوامی پرساد موریہ کا آر ایس ایس سے سوال ؛ کیا موہن بھاگوت ایسے عناصر کے خلاف ملک سےغداری کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کریں گے جو ملک میں ہندو راشٹر کی بات کرتے ہیں ؟

سابق وزیر سوامی پرساد موریہ کا آر ایس ایس سے سوال ؛ کیا موہن بھاگوت ایسے عناصر کے خلاف ملک سےغداری کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کریں گے جو ملک میں ہندو راشٹر کی بات کرتے ہیں ؟

Wed, 26 Nov 2025 11:51:48    S O News
سابق وزیر سوامی پرساد موریہ  کا آر ایس ایس سے سوال ؛ کیا موہن بھاگوت ایسے عناصر کے خلاف ملک سےغداری کا مقدمہ درج کرنے  کا مطالبہ کریں گے جو ملک میں ہندو راشٹر کی بات کرتے ہیں ؟

لکھنؤ، 26/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی)اتر پردیش کے سابق کابینی وزیر سوامی پرساد موریہ نے  آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے ایک تیکھا سوال پوچھتے ہوئے  سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ موریہ نے  سوال کیا ہےکہ جب ملک میں ’ہندو راشٹر‘ کا مطالبہ کرنے والے کھل کر اپنے خیالات پیش کر رہے ہیں، تو کیا موہن بھاگوت ایسے عناصر کے خلاف ملک سےغداری کا مقدمہ درج کرنے اور انہیں جیل بھیجنے کا مطالبہ کریں گے؟

بتاتے چلیں کہ سوامی پرساد موریہ  اپنے دو ٹوک بیانات کیلئے جانے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ  ملک کا آئین ،ہندوستان کو ایک سیکولر جمہوریہ قرار دیتا ہے اور اس سے ہٹ کر کسی متبادل نظام کا مطالبہ آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق، اگر کوئی طبقہ یا تنظیم ’ہندو راشٹر‘ کی بات کرتی ہے تو وہ آئین کو چیلنج کر رہی ہے، اور ایسی سرگرمیوں پر سخت کارروائی ہونی چاہئے۔

سوامی پرساد موریہ نے موہن بھاگوت کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگرآپ کا یہ خیال کہ اگر ہندونہیں ہوں گے تو دنیا ختم ہو جائے گی، بکواس، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا پہلے بھی موجود تھی، آج بھی ہے اور مستقبل میں بھی رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان ایک ’امر اور تکثیری سماج‘ ہے تو ہندو راشٹر کا مطالبہ کیوں؟ انہوں نے موہن بھاگوت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہاں یہ سچ ہے کہ اگر ہندو موجود نہیں تو مذہب کے نام پر کاروبار کرنے والوں کا وجود ختم ہو جائے گا۔‘‘

غورطلب ہے کہ آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے اپنے حالیہ ایک بیان میں کہا تھا کہ’ ’ہندوستان ایک ہندو راشٹر ہے اور اس بات سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ ان کے مطابق ہندو صرف ایک مذہب نہیں بلکہ ایک ثقافتی اور تہذیبی شناخت ہے جو ہزاروں سال سے جاری ہے۔ بھاگوت کا یہ بھی مؤقف ہے کہ ہر وہ شخص جو ہندوستان کی تہذیبی وراثت سے محبت رکھتا ہے، اپنے آبا و اجداد کی قدر کرتا ہے اور ملک کی ثقافت کو اہمیت دیتا ہے، وہ ہندو تصور کیا جا سکتا ہے، چاہے اس کا مذہب کچھ بھی ہو۔ ایک دیگر بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا  تھا  کہ ان کا مقصدصرف ہندو سماج کو منظم کرنا ہے، نہ کہ کسی کے خلاف کھڑا ہونا۔ساتھ ہی یہ بھی کہا  کہ ہندوستان ’اکھنڈ ‘ہے اور ہندو راشٹر ہے، آر ایس ایس تمام ذاتوں اور مذہبوں کے لوگوں کے لئے کھلا ہے، لیکن شامل ہونے والوں کو ’بھارت ماتا کے بیٹے‘ یاایک وسیع ہندو سماج کے رکن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

 سوامی پرساد موریہ نےمذکورہ بیانات پراپنےاعتراض کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھاگوت کے بیانات دراصل ایک نظریاتی بنیاد فراہم کرتے ہیں جو اُن کے خیال میں آئینی اور قانونی حدود کو پار کر سکتے ہیں۔ موریہ کا مطالبہ ہے کہ بھاگوت واضح طور پر بتائیں کہ وہ اس طرح کی قانونی کارروائیوں کے حق میں ہیں یا نہیں ؟

سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ موریہ کا یہ سوال نہ صرف آر ایس ایس کی نظریاتی حدود پر روشنی ڈالتا ہے، بلکہ یہ آئینی اصولوں جیسے اظہار رائے کی آزادی اورجمہوری شناخت کو بھی مرکز میں لے آتا ہے۔ اگر بھاگوت اس مطالبے کی حمایت کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ ہندو راشٹر کی بات کرنے والوں کو محض سیاسی یا نظریاتی بنیاد پر قانونی خطرے کی زد میں لانا چاہتے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ موریہ کے اس بیان کے بعد نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکمراں حلقوں میں بھی نئی بحث چھڑ سکتی ہے، کیونکہ ’ہندو راشٹر‘ کا مطالبہ دائیں بازو کی تنظیموں کا دیرینہ مؤقف رہا ہے۔


Share: