نئی دہلی، 15/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی) بہار اسمبلی الیکشن کے نتائج مہاگٹھ بندھن کے لئے نہایت مایوس کن ثابت ہوئے ہیں ۔ این ڈی اے کی پارٹیوں کو اس اسمبلی انتخاب میں یکطرفہ جیت مل گئی ہے اور جملہ 243 میں وہ 202؍اسمبلی سیٹوں پر جیت حاصل کر چکی ہیں ۔ اس شاندار کامیابی کے بعد این ڈی اے میں جشن کا ماحول ہے۔ جگہ جگہ پٹاخے پھوٹ رہے ہیں اور مٹھائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ بی جے پی نے تو ۱۶؍نومبر کو بہار کے سبھی ضلع ہیڈکوارٹرس میں جیت کا جشن منانے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ این ڈی اے کی یہ فتح جہاں یکطرفہ رہی ہے وہیں اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ عین الیکشن سےقبل ’رشوت ‘ نما رقم ووٹرس کے اکائونٹ میں منتقل کرکےنتیجہ اپنے حق میں کیا جاسکتا ہے۔ این ڈی اے کو ۲؍ تہائی سے زیادہ سیٹیں مل گئی ہیں لیکن اب بھی سوال یہی پیدا ہو رہا ہے کہ ۲۰؍ سال کی حکومت مخالف لہر اور تبدیلی کی اتنی شدید لہر کے باوجود برسراقتدار جماعت کو اتنی غیر معمولی فتح کیسے حاصل ہوئی۔
بہارانتخابات کیلئےووٹوں کی گنتی کے رجحانات شام سات بجے تک کم وبیش مستحکم ہوگئے تھے۔ اب میڈیا کی تازہ رپورٹوں کے مطابق بی جےپی 89؍سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھر ی ہے۔ دوسرے نمبر پر نتیش کمار کی جے ڈی یو ہے، جس نے 85 سیٹوں پر جیت درج کرلی ہے۔یاد رہے کہ بی جے پی اور جے ڈی یو نے بالترتیب 101 اسمبلی حلقوں میں اپنے اُمیدوار اُتارے تھے ۔
بہار کےحکمراں اتحاد کی دیگر حلیف جماعتوں لوک جن شکتی (رام ولاس) ، ہندوستانی عوام مورچہ (سیکولر ) اور راشٹریہ لوک مورچہ نے بھی زبردست کامیابی درج کی ہے۔ اس کی وجہ سےیہ قیاس آرائیاں ہونے لگی ہیں کہ بی جے پی نتیش کمار کے بغیر بھی اپنی حکومت بنا سکتی ہے۔ ان قیاس آرائیوں کی بنیاد یہ ہے کہ این ڈی اے میں شامل چراغ پاسوان کی ایل جے پی ، جیتن رام مانجھی کی ’ہم‘ اور اوپندر کشواہا کی راشٹریہ لوک مورچہ کا اتحاد بی جے پی کے ساتھ ہے۔
اس انتخاب میں مہاگٹھ بندھن کی تمام جماعتوں کی کارکردگی نہایت خراب رہی۔ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعلیٰ کے عہدہ کے امیدوار تیجسوی یادو کسی طرح اپنی سیٹ جیتنے میں کامیاب رہے وہیں نائب وزیراعلیٰ کے عہدہ کے امیدوارمکیش سہنی کی وکاس شیل انسان پارٹی اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول پائی۔ کانگریس اور بایاں بازو کی جماعتیں بھی دو چار سیٹوں پر سمٹ گئیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر راجیش رام اور اسمبلی میں کانگریس پارٹی کے لیڈر شکیل احمد خان بری طرح ہارگئے۔ یہی حال سی پی آئی ایم ایل قانون ساز پارٹی کے لیڈر محبوب عالم کا ہوا۔ وہ بھی اپنی سیٹ نہیں بچا پائے۔ اور حیرت انگیز طور پر جس تیجسوی یادو کو وزیر اعلیٰ کے طور پر دیکھا جارہا تھا، اُن کی پارٹی آرجے ڈی صرف 25؍سیٹوں پرہی سمٹ گئی۔جبکہ پچھلے انتخابات میں ۱۹؍سیٹیں جیتنے والی کانگریس کو صرف 6؍ سیٹوں پراکتفا کرنا پڑا ہے۔ انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم (اسدالدین کی پارٹی) کو اس الیکشن میں 5 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے
میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس انتخاب میں۱۴۳؍سیٹوں پر الیکشن لڑنے والی آرجے ڈی ۲۲ء۹۶؍فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی جبکہ بی جے پی کو ۲۰ء۰۸؍فیصد ووٹ ملے ۔ جے ڈی یو ۱۰۱؍سیٹوں پر الیکشن لڑی اور اس کے حق میں ۱۹ء۲۸؍فیصد ووٹ پڑے۔ اس لحاظ سے آر جے ڈی سب سے آگے رہی لیکن اس کی سیٹوں کی تعداد بی جے پی سے بہت کم رہی ہے۔