نئی دہلی ، 24 /ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی)ایس آئی آر معاملے پر سامنے آئیں کچھ میڈیا رپورٹس میں ہوئے انکشافات کے بعد اپوزیشن نے الیکشن کمیشن کو بری طرح گھیرنا شروع کر دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کو جیل میں ڈالنے تک کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں شائع رپورٹ نے الیکشن کمیشن کو ایک طرح سے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ حالانکہ الیکشن کمیشن نے اپنی صفائی میں یہ ضرور کہہ دیا ہے کہ سب ’آل اِز ویل‘ ہے اور سبھی فیصلے مل جل کر اتفاق رائے سے لیے جاتے ہیں، لیکن ایک نئی میڈیا رپورٹ نے پھر سے الیکشن کمیشن کی مٹی پلید کر دی ہے۔
انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے آج پھر ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوا کے انتخابی افسران نے 7 دنوں میں 8 ای میل بھیجے، لیکن الیکشن کمیشن نے ایک بھی ای میل کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا اور اس کا اثر یہ ہوا کہ کئی اہل ووٹرز ووٹ نہیں دے پائے۔ یہ انکشاف ایک بار پھر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی مبینہ منمانی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
دراصل معاملہ فروری کا ہے، جب گوا میں ایس آئی آر کا عمل انجام پایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق 17 فروری کو گوا میں ایس آئی آر کے تحت حتمی ووٹر لسٹ نکلنے سے 4 دن قبل ریاست کے چیف الیکٹورل افسر نے دہلی میں الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھا۔ 7 دنوں میں یہ ان کی آٹھویں بار کی گئی کارروائی تھی۔ خط کے ساتھ 97 ووٹرز کی فہرست بھی تھی۔ ان 97 ووٹرز کو گوا کے ہی ای آر او نے سپریم کورٹ کے طے عمل کے مطابق سنا، جانچ کی کارروائی انجام دی اور اہل پایا تھا۔ ای میل میں مطلع کیا گیا کہ انھیں ہٹانے کے پرانے فیصلوں کو پلٹنا ہوگا، لیکن ای آر او سافٹ ویئر (ای سی آئی نیٹ) کے ذریعہ ان فیصلوں کو پلٹ نہیں پائے۔ وجہ یہ تھی کہ ایسا کرنے کی اجازت دہلی سے کنٹرول ہوتی تھی۔
’دی انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق جب سوال کیا گیا کہ کئی ووٹر اہل ہونے کے باوجود حتمی ایس آئی آر لسٹ میں شامل نہیں کیے گئے، تو گوا کے چیف الیکٹورل افسر سنجے گویل نے بتایا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کو ان معاملوں کے بارے میں مطلع کیا تھا، جنھیں شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ لیکن منطقی خامیوں کی وجہ سے ان ووٹرز کو فلیگ کر دیا گیا تھا۔ سنجے گویل نے یہ بھی بتایا کہ ووٹرز کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ اُن کا تھا، لیکن ای آر او سطح پر ووٹرز کو پھر سے شامل کرنے کے لیے کوئی سسٹم ہونا چاہیے۔
بتایا جا رہا ہے کہ یہ 97 معاملے اسی تنازعہ کا حصہ ہیں، جس کے بارے میں 2 الیکشن کمشنرز گزشتہ ایک سال سے تنبیہ کر رہے تھے۔ انگریزی اخبار کی گزشتہ رپورٹ کے دعووں کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فیصلوں پر 2 الیکشن کمشنرز نے 10 ماہ میں 14 بار اعتراضات ظاہر کیے۔ ان کے اعتراضات نئے ووٹرز کو جوڑنے، ان کے نام ہٹانے اور ای سی آئی نیٹ سے منسلک تھے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے اپنی صفائی میں بیان جاری کر کہا کہ سبھی فیصلے متفقہ طور پر لیے جاتے ہیں۔
بہرحال، قانون کے مطابق ہر اسمبلی حلقہ کی ووٹر لسٹ اس کے ای آر او کے ذریعہ تیار کی جاتی ہے، جو ہر دعوے اور اعتراضات کی سماعت کرتا ہے اور ہر نام پر فیصلہ لیتا ہے۔ جنوری سے ملک کی ہر ووٹر لسٹ ای سی آئی نیٹ پر موجود ہے۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جسے الیکشن کمیشن نے اپنے سسٹم کو ایک ساتھ لانے کے لیے لانچ کیا تھا اور اس کا رول-مینجمنٹ ماڈیول ’ای آر او نیٹ‘ ہے۔ اس پر ای آر او کیا کر سکتا ہے، یہ دہلی میں الیکشن کمیشن کے آئی ٹی ڈویژن کے ذریعہ مقرر کردہ اجازت سے طے ہوتا ہے۔