ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دہلی فسادات کیس: مظاہروں میں شرکت یا انعقاد جرم نہیں، شاداب احمد کے وکیل کا سپریم کورٹ میں مؤقف

دہلی فسادات کیس: مظاہروں میں شرکت یا انعقاد جرم نہیں، شاداب احمد کے وکیل کا سپریم کورٹ میں مؤقف

Fri, 07 Nov 2025 08:22:25    S O News

نئی دہلی 7/نومبر (ایس او نیوز): دہلی فسادات کیس کے ایک ملزم شاداب احمد نے جمعرات (6 نومبر 2025) کو سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ محض احتجاجی مظاہروں میں شرکت یا ان کا انعقاد کرنا کوئی فوجداری جرم نہیں ہے۔

اُن کے وکیلِ دفاع، سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ لوتھرا نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شاداب احمد کے خلاف الزامات محض پولیس گواہوں کے بیانات اور چند مبینہ تصویروں پر مبنی ہیں، جن میں کوئی بھی براہِ راست ثبوت تشدد یا سازش کی جانب اشارہ نہیں کرتا۔

یہ سماعت جسٹس اروِند کمار اور این وی انجاریا کی بنچ کے سامنے ہو رہی ہے، جہاں فی الحال چارج فریم کرنے سے متعلق بحث جاری ہے۔

وکیلِ دفاع کے دلائل

سدھارتھ لوتھرا نے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون (UAPA) کی دفعات شامل کی گئی ہیں، لیکن ان دفعات کی بنیاد صرف یہ ہے کہ وہ شہریت (ترمیمی) قانون (CAA) کے خلاف مظاہروں میں شریک تھے۔

انہوں نے بتایا کہ شاداب احمد کو دوسری ضمنی چارج شیٹ میں شامل کیا گیا ہے اور استغاثہ کی جانب سے اُن کے خلاف پیش کیے گئے مواد میں سے ایک مبینہ تصویر ہے جو “ناقابلِ شناخت” ہے، جس میں انہیں دہلی پروٹیسٹ سولیڈارٹی گروپ کے ایک احتجاج میں موجود دکھایا گیا ہے۔

وکیل نے مزید کہا کہ مقدمے کی بنیاد دو محفوظ گواہوں — ’ریڈیم‘ اور ’سوڈیم‘ — کے بیانات پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’ریڈیم اور سوڈیم خطرناک کیمیکلز ہیں،‘‘ جس پر جسٹس اروِند کمار نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’’کبھی کبھار خطرناک چیزیں بھی اچھے مقصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔‘‘

عدالت میں سوالات

وکیلِ دفاع نے عدالت سے استفسار کیا، ’’کیا احتجاج منظم کرنا یا کسی احتجاج میں شریک ہونا بذاتِ خود جرم ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ شاداب احمد نے 24 فروری 2020 کو چاند باغ میں ایک سڑک کو بند کرنے اور خواتین کو بھارت بند کی حمایت پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا، مگر اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

سدھارتھ لوتھرا نے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ ان کے موکل نے ہمیشہ قانونی طریقۂ کار اختیار کیا اور ان پر مقدمے کی کارروائی میں تاخیر کا الزام بے بنیاد ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کی فائلیں تقریباً دو ہزار صفحات پر مشتمل ہیں، لیکن ان میں کسی بھی جگہ اُن کے موکل کو تشدد، اشتعال انگیزی یا غیر قانونی اجتماع سے جوڑنے والا کوئی ویڈیو، پیغام یا بیان شامل نہیں۔ ان کے مطابق، ’’میرے موکل کو صرف اس لیے سزا دی جا رہی ہے کہ اس نے ایک قانون کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا۔‘‘

مقدمے کی نوعیت اور قانونی اہمیت

یہ مقدمہ UAPA اور جمہوری حقِ احتجاج کے درمیان قانونی حد بندی کے اعتبار سے نہایت حساس قرار دیا جا رہا ہے۔ دفاع گواہوں کے بیانات اور پولیس شواہد کی ساکھ کو چیلنج کر رہا ہے، جب کہ پراسیکوشن اپنے مؤقف کو تقویت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، اس کیس کا فیصلہ مستقبل میں احتجاج اور قومی سلامتی سے متعلق مقدمات کی عدالتی تشریح پر اثر ڈال سکتا ہے۔

پس منظر

یاد رہے کہ فروری 2020 کے دہلی فسادات، جو شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف احتجاجوں کے دوران پھوٹ پڑے تھے، میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اس معاملے میں یونیورسٹی طلبہ اور سماجی کارکنان — عمر خالد، شرجیل امام، گلفشہ فاطمہ، میراں حیدر اور شِفا الرحمٰن — کو بھی UAPA اور تعزیراتِ ہند کے تحت ’’بڑی سازش‘‘ کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

عمر خالد نے بھی سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے خلاف تشدد یا سازش کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔

قبل ازیں دہلی ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’شہریوں کے احتجاج کے پردے میں سازشی تشدد کو برداشت نہیں کیا جا سکتا‘‘ اور یہ کہ ’’غیر محدود حقِ احتجاج آئینی ڈھانچے اور امن و قانون کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘

آئندہ سماعت

سپریم کورٹ میں شاداب احمد اور دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔
دہلی پولیس کی جانب سے جوابی دلائل 10 نومبر دوپہر 2 بجے سے شروع ہوں گے۔
عدالت اس دوران UAPA مقدمات میں استغاثہ کے شواہد، گواہیوں اور ان کی قانونی حیثیت کا تفصیلی جائزہ لے گی۔


Share: