ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دہلی میں 2453 پی جی عمارتوں کا سروے، صرف 512 ماسٹر پلان کے مطابق، 1723 کے نقشے زیرِتلاش

دہلی میں 2453 پی جی عمارتوں کا سروے، صرف 512 ماسٹر پلان کے مطابق، 1723 کے نقشے زیرِتلاش

Sat, 26 Sep 2026 17:58:56    S O News

نئی دہلی ، 26/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)دہلی کے ستیہ نکیتن علاقہ میں پی جی عمارت گرنے کے بعد راجدھانی میں چل رہے ’پیئنگ گیسٹ‘ یعنی پی جی کے انتظامات پر بڑا سوال کھڑا ہو گیا ہے۔ اس حادثہ کے بعد اعلیٰ سطح پر تحقیقات اور سروے کا دور شروع ہو گیا ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے تازہ سروے کے مطابق راجدھانی کے 12 زون میں 2,453 پی جی عمارتیں چل رہی ہیں۔ ان میں 32,247 کمرے ہیں اور تقریباً 50,529 لوگ مقیم ہیں۔ لیکن ان عمارتوں کی قانونی حیثیت اور ضابطوں کی پابندی کے بارے میں صورت حال واضح نہیں ہے۔

ایم سی ڈی نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ 2,453 پی جی عمارتوں میں سے صرف 512 عمارتیں ماسٹر پلان کے مطابق چل رہی ہیں۔ وہیں، صرف 730 عمارتوں کے منظور شدہ بلڈنگ پلان دستیاب ہونے یا ان کی تصدیق ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ اس لیے فی الحال 1,723 عمارتوں کو براہ راست غیر قانونی پی جی کہنا درست نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان 1,723 عمارتوں میں سے کتنی کے نقشے بعد میں ملتے ہیں اور کتنی میں حقیقی خلاف ورزیاں سامنے آتی ہیں۔

ایم سی ڈی کے سروے میں 2,342 پی جی عمارتیں دیکھنے میں محفوظ پائی گئیں۔ 91 عمارتوں میں معمولی مرمت، جب کہ 30 میں بڑی مرمت کی ضرورت بتائی گئی۔ 4 عمارتوں کو خطرناک حالت میں پایا گیا۔ اس کے علاوہ 8 عمارتیں، جن میں زمین کے اوپر 3 سے زیادہ منزلیں تھیں، اور 77 عمارتیں، جن میں زمین کے اوپر 4 سے زیادہ منزلیں تھیں، ممکنہ خطرے کے پیش نظر نشان زد کی گئیں۔

قابل ذکر ہے کہ 6 ستمبر کو ستیہ نکیتن میں پی جی عمارت گرنے سے 7 لوگوں کی موت کے بعد ایم سی ڈی نے کارروائی تیز کر دی۔ 6 سے 23 ستمبر کے درمیان کارپوریشن نے 543 جائیدادوں کو منہدم کیا، 178 کو سیل کیا اور غیر مجاز تعمیرات کے سلسلے میں 354 وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیے۔ اس کے علاوہ سیل کرنے سے متعلق 205 وجہ بتاؤ نوٹس اور انہدام کے 98 احکامات بھی جاری کیے گئے۔ تاہم ہائی کورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ اعداد و شمار عام کارروائی سے متعلق ہیں۔ انہیں براہ راست پی جی کے خلاف کی گئی کارروائی نہیں مانا جا سکتا۔ عدالت نے افسران سے پی جی عمارتوں کی الگ اور واضح شناخت کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کا حساب پیش کرنے کو کہا ہے۔

حادثے کے بعد ایم سی ڈی کے 5 افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ان میں متعلقہ زون کے ڈپٹی کمشنر، سپرنٹنڈنگ انجینئر، ایگزیکٹیو انجینئر، اسسٹنٹ انجینئر اور جونیئر انجینئر شامل ہیں۔ دہلی حکومت نے ستیہ نکیتن حادثے کی مجسٹریل جانچ بھی قائم کی ہے۔ اس جانچ میں یہ دیکھا جانا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی عمارت کے پاس قانونی اجازت تھی یا نہیں، بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی ہوئی تھی یا نہیں اور اس معاملے میں ایم سی ڈی افسران کی کوئی ذمہ داری تھی یا نہیں۔

دہلی کے ماسٹر پلان 2021 میں کچھ شرائط کے ساتھ رہائشی علاقوں میں ہاسٹل اور پی جی چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے لیے زمین کے استعمال، منظور شدہ نقشوں، عمارت کی حفاظت، بلڈنگ بائی لاز اور دیگر قابل اطلاق شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے۔ دہلی حکومت نے طلبا کی رہائش اور حفاظت کے معاملے پر ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، جو پی جی اور نجی ہاسٹلوں کے لیے ضابطہ جاتی ڈھانچے پر کام کر رہی ہے۔ ہائی کورٹ نے بھی پی جی کو کنٹرول کرنے والے موجودہ نظام کے بارے میں افسران سے واضح جواب طلب کیا ہے۔

پوری صورت حال میں 3 اعداد و شمار سب سے زیادہ اہم ہیں۔ 2,453 پی جی عمارتیں، 730 عمارتوں کے دستیاب یا تصدیق شدہ منظور شدہ نقشے اور 512 عمارتیں جو ماسٹر پلان کے مطابق چل رہی ہیں۔ باقی 1,723 عمارتوں کے نقشے فی الحال تلاش یا تصدیق نہیں کیے جا سکے ہیں۔ اس لیے آئندہ جانچ کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ان 1,723 عمارتوں میں سے کتنی بعد میں قانونی ثابت ہوتی ہیں، کتنی میں ضابطوں کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے اور ان میں رہنے والے لوگوں کی حفاظت کی صورت حال کیا ہے۔ ایم سی ڈی کا کہنا ہے کہ ان عمارتوں کی احاطہ وار جانچ ابھی جاری ہے۔


Share: