کاروار، 23 /جولائی(ایس او نیوز): اترکنڑا ضلع میں غیرقانونی طور پر طبی خدمات انجام دینے والے جعلی ڈاکٹروں کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کی مکمل جانچ کرتے ہوئے ان پر سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ یہ ہدایت ڈپٹی کمشنر اور انتخابی افسر لکشمی پریانے محکمۂ صحت کے افسران کو دی۔
کاروار ڈی سی دفتر کے اجلاس ہال میں منعقدہ کے پی ایم ای (KPME) رجسٹریشن و شکایات ازالہ اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضلع میں جعلی ڈاکٹروں کے خلاف تحقیقات اور کارروائی کے لیےضلع سطح کی خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ جعلی ڈاکٹروں اور غیرقانونی کلینکس پر قانون کے مطابق زیادہ سے زیادہ جرمانہ عائد کیا جائے، ان کے کلینکس بند کیے جائیں اور اگر وہ غیرقانونی سرگرمیاں جاری رکھیں تو ان کے خلاف فوجداری مقدمات بھی درج کیے جائیں۔
ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ تمام ڈاکٹر صرف اپنی منظور شدہ طبی اہلیت اور رجسٹریشن کے مطابق ہی علاج کریں۔ اگر کوئی شخص بغیر اجازت کسی دوسرے طریقۂ علاج کے تحت مریضوں کا علاج کرتا یا ادویات فراہم کرتا ہوا پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے محکمۂ صحت کے افسران کو ہدایت دی کہ ضلع کے تمام تعلقوں میں موجود نجی کلینکس، اسپتالوں اور نرسنگ ہومز کا باقاعدہ معائنہ کیا جائے تاکہ جعلی ڈاکٹروں کی موجودگی کی نشاندہی کی جا سکے۔
لکشمی پریا نے بتایا کہ اپریل 2026 سے اب تک ضلع میں کے پی ایم ای ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے 7 جعلی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔ ان کے کلینکس بند کر دیے گئے ہیں اور مجموعی طور پر 1 لاکھ 45 ہزار روپے جرمانہ بھی وصول کیا گیا ہے۔
اجلاس میں ضلع صحت و خاندانی بہبود افسرڈاکٹر سنجے ڈوڈمنی، ضلع آیوش افسر ڈاکٹر جگدیش یاجی، آرتھوپیڈک میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹر نتن پکلے، آئی ایم اے کے صدر ڈاکٹر سریش بھٹ، سماجی کارکنیشودھا ہیگڈے، وکیل ڈاکٹر کرشنانند بی نائک، ضلع خاندانی بہبود افسر ڈاکٹر اشونی بورکر اور دیگر متعلقہ افسران و معززین موجود تھے۔