بھٹکل، 21 جون (ایس او نیوز): بھٹکل سے تقریباً 30 کلو میٹر دور واقع اپسراکونڈا سے موگلی تک پھیلے 5,959 ہیکٹر پر مشتمل ساحلی اور جنگلاتی علاقے کو ریاستی کابینہ نے "میرین وائلڈ لائف سنکچری" قرار دینے کی منظوری دے دی ہے۔ اس تاریخی فیصلے کے ساتھ یہ علاقہ نہ صرف کرناٹک کی پہلی، بلکہ ملک کی ساتویں میرین سنکچری بن گیا ہے۔
بھٹکل سے متصل ہوناور تعلقہ میں واقع اپسراکونڈا ایک معروف سیاحتی مقام ہے، جہاں کا دلکش پارک اور پُرکشش سمندری ساحل سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے۔ ریاستی کابینہ میں اس علاقے کو میرین سنکچری قرار دینے کا فیصلہ جمعرات کو وزیر اعلیٰ سدارامیا کی صدارت میں ودھان سودھا میں منعقدہ اجلاس میں لیا گیا۔ اس سے قبل وزیر جنگلات ایشور کھنڈرے کی قیادت میں ریاستی وائلڈ لائف بورڈ نے اپسراکونڈا سے موگلی تک کے تقریباً 6 کلومیٹر طویل ساحلی علاقے اور اس سے متصل جنگلات کو سنکچری قرار دینے کی تجویز کو منظوری دی تھی۔
ریاستی وزیر برائے سیاحت، قانون و پارلیمانی امور ایچ کے پاٹل نے اس موقع پر وضاحت کی کہ اس میرین سنکچری کے اعلان سے روایتی ماہی گیری پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی ماہی گیروں کی کشتیوں کی نقل و حرکت اور روزمرہ کی سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی، اور مقامی باشندوں کے حقوق بدستور محفوظ رہیں گے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، یہ میرین سنکچری ہونّاور کی 8.21 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر مشتمل ہے، جس میں 6 کلومیٹر تک کا سمندری علاقہ اور 835 ہیکٹر جنگلاتی زمین شامل ہے۔ اس علاقے میں مینگروو کے گھنے جنگلات، نایاب آبی مخلوقات، مرجان، کچھوے، جھینگے اور دیگر ماحول دوست حیاتیاتی انواع پائی جاتی ہیں، جن کے تحفظ کے مقصد سے اس خطے کو سنکچری کا درجہ دیا گیا ہے۔
ملک میں اس سے قبل انڈمان و نکوبار جزائر میں دو، جبکہ گجرات، مہاراشٹرا، اوڈیشہ اور تمل ناڈو میں ایک ایک میرین وائلڈ لائف سنکچری قائم ہیں۔ اپسراکونڈا-موگلی کو سنکچری قرار دیئے جانے کے بعد کرناٹک پہلی بار اس فہرست میں شامل ہوگیا ہے ، جو نہ صرف ریاست کے ماحولیاتی تحفظ بلکہ ساحلی ترقی اور سائنسی تحقیق کی سمت ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق، اس فیصلے سے نہ صرف سمندری حیات کو تحفظ ملے گا بلکہ ساحلی سیاحت کو فروغ، مقامی معیشت میں بہتری اور نوجوانوں کے لیے تحقیق و مطالعہ کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔