ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بنگلورو میں ’غیر قانونی تارکین وطن‘ کی جانچ کے دوران ہراسانی کا الزام، حقوق انسانی کی تنظیموں کی پولیس کے خلاف شکایت

بنگلورو میں ’غیر قانونی تارکین وطن‘ کی جانچ کے دوران ہراسانی کا الزام، حقوق انسانی کی تنظیموں کی پولیس کے خلاف شکایت

Sun, 09 Aug 2026 00:54:31    S O News
بنگلورو میں ’غیر قانونی تارکین وطن‘ کی جانچ کے دوران ہراسانی کا الزام، حقوق انسانی کی تنظیموں کی پولیس کے خلاف شکایت

بنگلورو، 9 اگست (ایس او نیوز): بنگلورو میں مبینہ غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کی شناخت کے لیے پولیس کی جانب سے شروع کی گئی خصوصی مہم کے دوران غریب اور مہاجر مزدوروں کو مبینہ طور پر ہراساں اور غیر قانونی طور پر حراست میں لیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ حقوق انسانی، قانونی اور مزدور تنظیموں نے کارروائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیر داخلہ، پولیس کے اعلیٰ حکام اور بنگلورو پولیس کمشنر سے شکایت کی ہے۔

پولیس نے ہفتہ کی صبح ’آپریشن مُکتا‘ کے نام سے کارروائی شروع کی، جس میں وائٹ فیلڈ ڈویژن سمیت بنگلورو کے متعدد علاقوں میں بڑے پیمانے پر تلاشی اور دستاویزات کی جانچ کی گئی۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق تقریباً 500 پولیس اہلکاروں نے وائٹ فیلڈ، کڈوگوڈی، مارتھا ہلی، بیلندور اور مہادیوپورہ سمیت مختلف علاقوں میں کارروائی کی، جبکہ وائٹ فیلڈ ڈویژن میں تقریباً 30 مقامات پر جانچ کی گئی اور تقریباً 40 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان کے دستاویزات کی جانچ کی گئی۔

پولیس کے مطابق کارروائی کا مقصد شہر میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کی شناخت کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دستاویزات میں شک پائے جانے کی صورت میں مزید جانچ کی جائے گی اور غیر ملکی شہریوں کو Foreigners Regional Registration Office (FRRO) کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

تاہم پیپلز یونین فار سول لبرٹیز (PUCL)، آل انڈیا لائرز ایسوسی ایشن فار جسٹس (AILAJ)، ڈومیسٹک ورکرز رائٹس یونین (DWRU) اور آل انڈیا سینٹرل کونسل آف ٹریڈ یونینز (AICCTU) نے پولیس کارروائی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ تنظیموں کی جانب سے 8 اگست کو دائر کی گئی شکایت میں پولیس پر ’غیر قانونی حراست، مارپیٹ اور غیر انسانی سلوک‘ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

تنظیموں کے مطابق پولیس کی ٹیمیں ہفتہ کی صبح مختلف جھونپڑ پٹیوں میں داخل ہوئیں اور وہاں مقیم افراد سے شناختی دستاویزات طلب کیں۔ شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کئی افراد نے دستاویزات پیش کرنے کے باوجود انہیں پولیس گاڑیوں اور بسوں میں بٹھا کر تھانوں، کنونشن سینٹروں، شادی ہالوں اور دیگر مقامات پر لے جایا گیا۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے اور ان میں بڑی تعداد غریب، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور مہاجر مزدوروں کی تھی۔

حقوق انسانی تنظیموں کے کارکنوں اور وکلا نے مبینہ طور پر حراست میں لیے گئے افراد سے ملاقات کے لیے بعض پولیس اسٹیشنوں، کنونشن سینٹروں اور دیگر مقامات کا دورہ بھی کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت اور قانونی کارروائی کے نام پر ہندوستانی شہریوں، خصوصاً بنگالی زبان بولنے والے مہاجر مزدوروں کو محض شبہ کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

بنگلورو میں اس طرح کی کارروائیوں کے دوران غلط شناخت کے واقعات پہلے بھی سامنے آچکے ہیں۔ فروری میں پولیس کی ایک خصوصی مہم کے دوران مغربی بنگال کے نادیہ ضلع سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ تعمیراتی مزدور محمد شیخ کو بنگلہ دیشی شہری ہونے کے شبہ میں تقریباً 10 گھنٹے پوچھ گچھ کے لیے حراست میں رکھا گیا تھا۔ پولیس نے بعد میں اس کی ہندوستانی شہریت کی تصدیق کے بعد اسے رہا کردیا تھا۔

مارچ میں بنگلورو پولیس نے کڈوگوڈی اور ورتھور علاقوں میں ایک اور کارروائی کے دوران 124 مبینہ غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں کو حراست میں لینے کی اطلاع دی تھی۔ پولیس کے مطابق ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے اور تمام افراد کی دستاویزات کی جانچ کی گئی تھی۔

دوسری جانب، بنگلورو میں غیر قانونی تارکین وطن کی موجودگی کے معاملے پر سیاسی اور سماجی سطح پر بحث بھی تیز ہوئی ہے۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ دستاویزات کی باقاعدہ جانچ اور مشتبہ غیر ملکیوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہے گی، جبکہ حقوق انسانی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائی قانون کے دائرے میں اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے ہونی چاہیے۔

تازہ معاملے میں حقوق انسانی کی تنظیموں نے حکام سے واقعے کی تحقیقات اور مبینہ طور پر حراست میں لیے گئے افراد کے ساتھ کیے گئے سلوک کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔


Share: