چنتامنی:20 /اگست(محمد اسلم؍ایس او نیوز)اسلام نے امن واتحاد کا جو پیغام دیا ہے اسے آج عوام تک پہنچانے کی شدید ضرورت ہے ملک میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک تمام طبقات کے ساتھ انصاف نہ کیا جائے اس ملک میں مسلمانوں پر جابجا الزامات لگا کر ہمیں پڑوسی ملک جانے کے لئے کہا جارہا ہے یہ بھارت دیش ہمارا ہے اس بھارت دیش پر سب سے پہلے مسلمانوں نے ہی حکومت قائم کی تھی آج اس بھارت میں دیش میں دوسرے طبقات کا جتنا حق ہے اُتنا ہی مسلمانوں کو بھی حق ہے ہم اس ہندوستان کے کرایہ دار نہیں بلکہ ہم اس ہندوستان کے حق دار ہے کوئی بھی ہمیں ہندوستان سے نہیں بھگا سکتا کیونکہ ہندوستان کی آزادی میں بیشمار مسلمانوں نے آپنی جان کی قربانی دی ہیں مسلمان کبھی بھی اس بھارت دیش کے ساتھ غداری نہیں کریں گے جو بھارت دیش کے ساتھ غداری کریگا وہ مسلمان نہیں ہوگا یہ بات آل انڈیا ملی کونسل ریاستی صدر مولانا اعجاز احمد ندوی نے کہی۔
وہ کل رات یہاں کے نصیب شادی محل میں آل انڈیا ملی کونسل چنتامنی شاخ کے زیر اہتمام ’’آزادی ہند میں مسلمانوں کا کردار ۔وطن عزیز کے لئے علمائے کرام کی قربانیاں ‘‘کے عنوان پر منعقدہ جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی اعتبار سے ہم مسلمان ،ہندو سکھ ،عیسائی یادیگر الگ الگ مذہب سے ضرورہیں مگر قومی اعتبار سے ہم سب ہندوستانی ہیں اور رہیں گے۔مولانا موصوف نے ملک کے نونہالوں اور عمائدین شہر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی خاطر ہم مسلمانوں نے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں ان قربانیوں کی بدولت ہی آج ہم سب ملک میں انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوئے ہیں یہی نہیں ملک کی آزادی کے غرض سے سب سے پہلے آواز اُٹھانے والے کوئی اور نہیں تھے وہ مسلمان ہی تھے انگریزوں کی حکومت کے دوران آزادی کے نام اپنے لبوں پر لینے کی کسی میں ہمت نہیں تھی ایسے سنگین حالات میں ہم ملک کے مسلمانوں ،مفسرین،محدثین ،اکابرین ،وعلمائے کرام نے سب سے پہلے آزادی کا نعرہ لگایا اور ملک میں آزادی کو حاصل کرنے کا ولولہ و جوش وفروغ دینے کے کام آیا جس کے نتیجہ میں ملک کے تمام مذاہب کے لوگوں نے متحد ہوکر انگریزوں کے خلاف آواز بلند کی اور انہیں ملک سے باہر نکالنے کے لئے متحد ہوگئے ۔
مولانا نے کہا کہ ملک کی آزادی کی خاطر حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ مرد مجاہد واحد فرد تھے جنہوں نے ملک کے خاطر اپنی جان تک پیش کی ساتھ ساتھ اپنی اولاد تک کو انگریزوں کے ہاتھورہن رکھ دیا تاکہ ملک کی آن بان شان برقرار رہے۔بعد ازاں آل انڈیا ملی کونسل کے سکریٹری سید شفیع اللہ صاحب نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی آزادی کے خاطر ملک کے مسلمانوں نے کیا کچھ برداشت کیا ہر لائن سے ہر اعتبار سے اپنی قربانیوں کو پیش کیا مگر ملک میں ہم مسلمانوں کو غدار اور دہشت گرد کا پٹہ لگاکر بدنام کرنے کی ہر ممکن سازش میں زاعفرنی شدت پسند اور مفاد پرست کچھ تنظیموں نے اپنے آپ کو سرگرم رکھا ہے اور ملک میں ان کی ایاری بھی کام کررہی ہے جوکہ ملک کے مستقبل کے لئے سنگین ہوسکتی ہے اسلئے ہم سب کو متحد ہوکر بلا تفریق ہم مسلمان اپنے جائز حقوق کو حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرنا لازم ہوگیا ہے اور ہر حال میں ان کے سوال کے جواب دینے والے بن جائیں اور ملک کی آزادی کے خاطر سیکولرزم کی بنیاد کس نے رکھی ہے اس بات کو خوب جاننے کوشش کریں
مولانا سید باقرعلی امام جمعہ علی پور نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو آزاد کرانے کی لڑائی اب بھی ختم نہیں ہوئی ہے جب تک غریب کو روٹی اورجاہل کو علم نہیں مل جاتا تب تک یہ لڑائی جارہے رہے گی۔مولانا نے کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے اس ملک کے ہم کرایہ دار نہیں حصہ دار ہیں جب تک برادران وطن کو ساتھ لے کر ملک کی ترقی کے لئے ہم جدوجہد نہیں کریں گے اس وقت تک ہمیں انصاف نہیں ملے گا۔جلسہ کا آغاز تلاوت کلام اللہ سے ہوا۔ نعت اور حمد بھی پیش کی گئی، آل انڈیا ملی کونسل کے رُکن ناطق علی پوری نے آزاد ی کے تعلق سے اشعارسنائے اور سامعین کا دل موہ لیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری مولانا امتیاز اللہ خان کاشفی نے تمام مہمانوں کا استقبال کیا نیز آل انڈیا ملی کونسل کے متعلق عوام کو تفصیلات سے آگاہ کرایا۔اس موقع پر آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری سید شاہد،چکبالاپور جنرل سکریٹری سید امان اللہ،چنتامنی تعلق صدر الحاج شیخ حسین ،وقف بورڈ کے نائب چیرمین میر جراراحسین علی پور،ورکنگ صدر الحاج سی ایس باشاہ صاحب،نائب صد ر عنایت اللہ شریف،سنےئر وکیل ابرہیم صاحب،سمیت کئی احباب موجود تھے۔