ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہمارا دفاع توڑنا ناممکن ہے: پاکستانی فوج کا اصرار

ہمارا دفاع توڑنا ناممکن ہے: پاکستانی فوج کا اصرار

Sun, 02 Oct 2016 16:15:58    S.O. News Service

اسلام آباد،2؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا) پاکستانی فوج نے بین الاقوامی صحافیوں کے ایک گروپ کو ہفتے کے روز پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور لائن آف کنٹرول کا دورہ کرایا اور بتایا کہ دفاعی طور پر جو حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں، بھارت کی طرف سے ان کے خلاف ورزی ممکن نہیں ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ پاکستانی فوج کی طرف سے بین الاقوامی صحافیوں کو متنازعہ وادی کشمیر کا اس طرح دورہ کروانا ایک غیر معمولی قدم ہے۔

پاکستانی فوج اس ہندوستانی دعوے کو مسترد کرتی ہے کہ اس کے کمانڈوز نے سرجیکل کارروائی کرتے ہوئے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے تین کلو میٹر اندر تک رسائی حاصل کی اور جنگجوؤں کو نشانہ بنایا۔ ہندوستانی آرمی چیف دلبیر سنگھ نے اس مبینہ کارروائی کے لیے اپنے کمانڈروز کو شاباس دی ہے اور کہا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں کی گئی یہ عسکری کارروائی کامیاب رہی۔ تاہم بھارت کی طرف سے اس حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ناقدین کے کہنا ہے کہ اگر اس بھارتی دعوے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ بات پاکستانی فوج کے لیے انتہائی شرمندگی کا باعث ہو گی کیونکہ سخت انتظامات کے باوجود اس طرح بھارتی کمانڈوز کا پاکستانی کشمیر میں داخل ہونا درحقیقت ایک غیر معمولی پیشرفت ہو گا۔ یہ امر اہم ہے کہ سن دو ہزار گیارہ میں امریکی کمانڈوز نے اسلام آباد کی رضامندی کے بغیر ہی ایبٹ آباد میں ایک کارروائی کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا اور یہ حملہ پاکستانی فوج کے لیے انتہائی سبکی کا باعث بنا تھا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ ہفتے کے دن بین الاقوامی صحافیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے لائن آف کنٹرول سے دو کلو میٹر دور تک لے گئے اور سکیورٹی حصار بھی دکھائے۔ اس موقع پر انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ تہہ در تہہ سکیورٹی رکاوٹوں کے باعث کسی بھارتی فوجی کا پاکستانی کشمیر میں داخل ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ انہوں نے البتہ کہا کہ دو پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت سرحد پار گولہ باری کے نتیجے میں ہوئی۔ان بین الاقوامی صحافیوں کو ان چار فوجی چھاؤنیوں کا دورہ بھی کرایا گیا، جہاں بھارتی دعووں کے مطابق اس کے کمانڈوز نے کارروائی کی تھی۔ صحافیوں نے دیکھا کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر سے انتہائی قریب واقع پاکستانی کشمیر کے گاؤں منڈھول میں صبح سویرے بچے یونیفارم پہنے اسکولوں کی طرف رواں تھے جبکہ کاروباری مراکز فعال اور لوگوں کا ہجوم معمول کی زندگی کی گواہی دے رہا تھا۔

باجوہ نے بین الاقوامی نامہ نگاروں اور صحافیوں کو بتایا کہ وہ پاکستانی کشمیری لوگوں سے ملیں اور ان سے پوچھیں کہ حالات کیا ہیں، آپ جا سکتے ہیں اور شہریوں سے مل سکتے ہیں۔ ہماری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ یو این مشن، میڈیا اور عام پبلک چاہے تو وہاں جا کر خود حالات کا جائزہ لے۔جنرل باجودہ کے ان دعووں کی تصدیق تو ممکن نہیں لیکن اے ایف پی کے رپورٹر نے بھارتی زیر انتظام کشمیر کے پونچھ سیکٹر سے ملحقہ پاکستانی کشمیر کے علاقے تتہ پانی سیکٹر میں ایک مقامی شہری سردار جاوید سے صورتحال دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ بھارتی کمانڈوز کی کارروائی کے بارے میں کوئی شواہد نہیں ہیں۔


Share: