بنگلورو22؍اگست(ایس او نیوز) ریاستی وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا نے بی بی ایم پی افسران کو متنبہ کیا ہے کہ شہر میں تالابوں اور بڑے نالوں پر غیر قانونی قبضہ جات کو ہٹانے کیلئے جاری انہدامی مہم کے تحت کسی بھی مکان کو منہدم کرنے سے پہلے مکان مالکان کی طر ف سے دستاویزات طلب کئے جائیں اور اگر ان کے دستاویزات درست پائے گئے تو غیر ضروری طور پر عمارتوں کو منہدم کرکے انہیں پریشان نہ کیا جائے۔ وزیر موصوف نے بی بی ایم پی کے علاوہ ٹاؤن پلاننگ اور محکمۂ مالگذاری کے افسران کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ انہدامی مہم کے دوران اپنے پاس موجود دستاویزات کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان دستاویزات کا مکان مالکان کے دستاویزات سے موازنہ کرنے کے بعد ہی اپنی انہدامی کارروائی آگے بڑھائیں ۔ بلاوجہ بے قصور لوگوں کے مکانات کو گرانے کی حماقت سے گریز کریں۔ آج ان تینوں محکموں کے اعلیٰ افسران کے ساتھ لیجسلیٹرس ہوم میں ایک میٹنگ کے دوران مسٹر جئے چندرا نے یہ سخت ہدایت دی کہ کسی بھی عمارت کو منہدم کرنے سے پہلے ان تینوں محکموں کے افسران کومکان مالکان کی طرف سے مطالبہ کئے جانے پر مکان کو گرانے کے مکمل دستاویزات دینے ہوں گے۔ بی بی ایم پی کے ریوینیو اور ٹاؤن پلاننگ محکموں کے درمیان تال میل کی کمی کو ایک حقیقت تسلیم کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہاکہ انہدامی مہم کے دوران ان تینوں محکموں کو تال میل سے کام کرنا چاہئے۔ تینوں محکموں سے کسی نے بھی اگر مکان کو باقاعدگی دی ہے تو اسے باقاعدہ تسلیم کیا جائے اور انہدامی کارروائی نہ کی جائے۔ عام شکایت یہ ہے کہ دستاویزات دکھائے جانے کے بعد بھی مکانات منہدم کئے جارہے ہیں۔ آئندہ اس طرح کی شکایتوں کیلئے گنجائش نہ رہے۔ غیر ضروری طور پر مکانات کو منہدم کئے جانے سے لوگوں کو کافی پریشانی جھیلنی پڑتی ہے، بی بی ایم پی افسران اس طرح سے لوگوں کو پریشان کرنا چھوڑ دیں۔ آج کی میٹنگ میں بی بی ایم پی کے محکمۂ سروے کے افسران مالگذاری اور ٹاؤن پلاننگ شعبوں کے نمائندے وغیرہ موجود تھے۔