ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک میں سرکاری اسپتالوں کی حالت نہایت ہی خستہ،سی اے جی رپورٹ میں انکشاف وکٹوریہ اسپتال میں تربیت یافتہ عملہ کا فقدان،10وینٹی لیٹر بے کار

کرناٹک میں سرکاری اسپتالوں کی حالت نہایت ہی خستہ،سی اے جی رپورٹ میں انکشاف وکٹوریہ اسپتال میں تربیت یافتہ عملہ کا فقدان،10وینٹی لیٹر بے کار

Mon, 22 Aug 2016 10:35:20    S.O. News Service

بنگلورو۔21؍اگست(ایس او نیوز) ریاست بھر میں سرکاری اسپتالوں کی حالت نہایت ہی خستہ ہے۔ مریضوں کی تشخیص کے لئے ضروری میڈیکل آلات اسپتالوں میں موجود نہیں ہیں اور جن اسپتالوں میں مشینیں ہیں وہ ٹھیک طرح سے کام نہیں کررہی ہیں۔سی اے جی رپورٹ کے مطابق ریاست بھر میں جتنی سرکاری اسپتال ہیں ان میں سہولیات کا فقدان ہے۔ بہت سارے اسپتالوں میں 100سے بھی کم بستروں کی تعداد ہے جبکہ اسپتال انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس100بستروں کی سہولیات ہیں مگر یہ سب صرف کاغذوں کی حدتک ہے۔سی اے جی رپورٹ کے مطابق کرناٹک کا مشہور وکٹوریہ اسپتال ان میں سے ایک ہے جہاں سہولیات کا فقدان ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق وکٹوریہ اسپتال کے برننگ وارڈ میں تربیت یافتہ نرسوں کی تعدادبہت ہی کم ہے۔ جس کی وجہ سے مریضوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ اس وقت جونرسیں وہاں پر کام کررہی ہیں انہیں تجربہ نہیں جس کی وجہ سے مریضوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں ہوپارہی ہے۔بروقت طبی امداد نہیں ملنے سے مریضوں کو صحت یاب ہونے میں کافی وقت لگ رہا ہے۔ سی اے جی رپورٹ کے مطابق وکٹوریہ اسپتال میں بلڈبینک تو ہے مگر اس کی دیکھ ریکھ کیلئے مناسب آلات نہیں ہیں یاپھر آلات بے کار ہوچکے ہیں۔ اس پر اسپتال انتظامیہ کی توجہ نہیں ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف بھی ہوا ہے کہ اس وقت یہاں44فیصد بستر خالی پڑے ہیں اس کی ایک اہم وجہ اسپتال سے لوگوں کی بیزاری ہے۔ چونکہ اطراف واکناف میں یہ بات عام ہوچکی ہے وکٹوریہ میں ضروری سہولیات نہیں ہیں اس لئے ڈاکٹر مریضوں کو وکٹوریہ کی طرف نہیں بھیجتے ہیں۔ وزیراعظم تحفظ صحت منصوبہ کے تحت وکٹوریہ اسپتال احاطہ میں سوپر اسپیشلٹی کا انتظام کیاگیاہے۔ تاکہ باہر سے آئے ہوئے مریضوں کو فوراً طبی امداد پہنچائی جاسکے مگر اس منصوبہ پر عمل آوری نہیں ہورہی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو دوسرے اسپتال جانا پڑرہاہے۔سی اے جی رپورٹ کے مطابق انسٹی ٹیوٹ آف نیفر یورو لوجی کی حالت بھی انتہائی خراب ہے۔ 2012 میں1.64کروڑ روپئے کی لاگت سے 25 ہیموڈائلاسس کی مشینیں خریدی گئی تھیں مگر مناسب جگہ اورعملہ نہیں ہونے کی وجہ سے 6 مشینیں پڑی پڑی خراب ہوچکی ہیں۔ وکٹوریہ اسپتال میں 24 وینٹی لیٹر کی سہولیات تھیں مگر ان میں سے 4وینٹی لیٹر بے کارہوچکے ہیں۔ 6کو مرمت کے لئے بھیجا گیا ہے۔جس کی وجہ سے اس وقت جملہ14وینٹی لیٹر ہی کام کررہے ہیں۔ سی اے جی رپورٹ کے مطابق سی وی رمن سرکاری اسپتال میں2012-14 کے دوران38لاکھ روپئے کی لاگت سے تین وینٹی لیٹر خریدے گئے تھے۔مگر یہاں بھی مناسب جگہ اور عملہ کی کمی کے سبب تینوں وینٹی لیٹر بے کار پڑے ہیں۔ اسی طرح بہت دنوں سے یہاں کا بلڈبینک بھی کام نہیں کررہاہے۔ آنیکل جنرل اسپتال میں آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر ہونے کے باوجود آس پاس کے مریض دوسرے اسپتالوں کا رخ کررہے ہیں، یہاںآپریشن تھیٹر نہیں ہے۔جس کی وجہ سے آئے ہوئے مریضوں کو بھی دوسرے اسپتالوں کو ریفر کرنا پڑرہا ہے۔سی اے جی رپورٹ کے مطابق کیمپیگوڈا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہبلی، جنرل اسپتال پتور چیلونبا اسپتال میسور وچتردرگہ ضلع اسپتال سمیت متعدد دیگر اسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ ریکھ کے لئے انتظامات نہیں ہیں۔ چند اسپتالوں میں مناسب جگہ نہیں ہونے کی وجہ سے ایک بستر پر دو مریضوں کو لٹایاجارہاہے۔ بعض اسپتالوں میں مریضوں کو زمین پر لٹاکر علاج کیا جارہا ہے۔ ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیاگیا ہے کہ بلڈ بینکوں میں تربیت یافتہ عملہ نہیں ہونے کی وجہ سے موجود خون خراب ہورہاہے۔اس کی ایکسپائری تاریخ ختم ہورہی ہے۔ جس کی وجہ سے بلڈ بینک کو کافی نقصان ہورہاہے۔ سی اے جی رپورٹ کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں مناسب دیکھ ریکھ نہیں ہونے کی وجہ سے 80 فیصد خون ضائع ہورہاہے۔


Share: