واشنگٹن،15جنوری/(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا)امریکا میں شہری حقوق کے علمبردار سیاہ فام رہ نما مارٹن لوتھر کنگ کی یاد میں یہ ہفتہ منایا جارہا ہے اور نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے کا آغاز انسانی حقوق کے ایک اور علمبردار پر ٹویٹر حملے سے کیا ہے کیونکہ انھوں نے یہ کہا تھا کہ ٹرمپ امریکا کے جائز منتخب صدر نہیں ہیں۔ریاست جارجیا سے تعلق رکھنے والے ڈیمو کریٹک پارٹی کے رکن کانگریس جان لیوس نے این بی سی کے پروگرام میٹ دا پریس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسیوں کی ہیکنگ سے ڈونلڈ ٹرمپ کوجیت میں مدد ملی تھی۔مسٹر لیوس نے مزید کہا ہے کہ وہ 20جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔1986 میں امریکی ایوان نمائندگان کا پہلی مرتبہ رکن منتخب ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وہ کسی صدر کی حلف برداری میں شریک نہیں ہوں گے۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے اس کے ردعمل میں اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ لیوس غلط طور پر انتخابی نتائج سے متعلق شکایت کررہے ہیں۔اس کے بجائے انھیں اپنا زیادہ وقت اپنے ضلع کے مسائل کے حل پر صرف کرنا چاہیے کیونکہ وہ تار تار ہورہا ہے۔تاہم انھوں نے مسٹر لیوس کے حلقہئ انتخاب میں جرائم کا حوالہ نہیں دیا ہے۔
واضح رہے کہ 76سالہ لیوس امریکا میں گذشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے انسانی حقوق کے علمبردار چلے آرہے ہیں۔انھیں پولیس نے 1965 میں الاباما کے علاقے سلما میں ایک ریلی کے دوران میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔انھوں نے اس روز مارٹن لوتھر کنگ کے ساتھ امریکا کے سیاسی فاموں کو ووٹ کا حق دلانے کے لیے مظاہرہ کیا تھا۔مسٹر لیوس نے این بی سی کے پروگرام میں ٹرمپ کے تند وتیز ٹویٹر کے جواب میں صرف اتنا کہا ہے کہ میں معافی میں یقین رکھتا ہوں اور لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں یقین رکھتا ہوں۔یہ بہت مشکل نظر آرہا ہے۔میں اس نومنتخب صدر کو جائز صدر نہیں سمجھتا ہوں