سڈلگٹہ20؍ اگست(محمد اسلم ؍ایس او نیوز)موجودہ حالات میں ماحول پر ہورہے مضر اثرات پر قابو پانے کیلئے شجرکاری ضروری ہے ۔پر ایک شخص کو چاہئے کہ وہ پیڑ پودوں کی حفاظت کریں صحت اور تندرستی کے لئے ایک اچھے نظام اور ماحول کی ضرورت ہے اسلئے ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے کہ ہم شجرکاری پر خصوصی توجہ دیں سبز فضا ہی انسانی کی خوشگوار اور پرامن بناتی ہے اس سے بے توجیح ماحول کر پر گندہ کرتا کرتا ہے جوانسانی کیلئے خطرناک ہے ان خیالات کااظہار چکبالاپور ضلع سلگٹہ شہر کے وی۔کیر سیو فاؤنڈیشن کے صدر محمد مزمل کیا۔انہوں نے شہر کے مختلف مقامات کئی سو پودوں کو لگانے کے پروگرام کا آغاز پودا لگا کرکرنے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر مکان کے روبروپودے لگانے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ صرف پودے لگانے سے کچھ نہیں ہوتا ان پودوں کی دیکھ بھال کرنا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ ماحول پر ہورہے مضر اثرات پر قابو پانے کیلئے شجرکاری منصوبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اس ضمن میں عوامی بیداری مہم چلانا ضروری ہے آج ہم پودے لگائیں تو اس کا فائدہ آنے والی نسل کو پہنچے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہ قدرت نے انسان کیلئے صرف عمد ہ اور صحت مند غذا کا انتظام کیا ہے بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر انسان کی صحت اور نشونما کیلئے جنگل پیڑپودے وغیرہ کوانسانوں کے تحفظ کے لئے بنایا ہے قدرت نے جس نظام کو انسان کی نشونما اور صحت کے پیدا فرمایا ہے انسان ہے کہ قدرت کی اس دولت اور کو اپنے مفاد کے لئے بے دردی کے ساتھ تباہ برباد کرتا جارہا ہے حالانکہ وہ نہیں جانتا ہے کہ جس کو یہ برباد کررہا ہے ۔دراصل وہ پیڑ پودے اسکے محافظ ہی نہیں بلکہ اسکی صحت مند زندگی کے ضروریا ت کو پورا کرنے والے ہیں جنگلوں کی تباہی کے سبب ہزاروں ،چرندوں ،پرندوں ،رینگنے والے کیڑے مکوڑے ،درندے،وغیرہ کی نسلیں تباہی کے دہانے پر آکھڑی ہیں۔اب یہ بات پہلے سے زیادہ واضح ہوچکی ہے گلوبل وارمنگ اور آب وہوا میں تبدیلی کی ذمہ دار انسانی سرگرمیاں ہیں۔اور آنے والے وقت میں زمین پر گرمی کی شدت کے سیلاب ،طوفان،خشک سالی اور سمندروں کی سطح بلند ہونے والے واقعات میں مزید اضافے کاامکان ہے انہوں نیاور کہا کہ آب وہوا میں تبدیلیوں کا سلسلہ اگلی گئی صدیوں تک جاری رہے گا آج ہم جو کچھ کررہے ہیں۔اسکا اثر نہ صرف موجودہ نسلوں پر ہی نہیں بلکہ کئی نسلیں اس سے متاثرہوں گی۔اس موقع پرمولانا فاروق ،منیر صاحب،بابو،نصیر صاحب سمیت شہر کے کئی نوجوان موجود رہے۔