ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پاکستان سے مذاکرات نہیں ہو سکتے:براہمداغ

پاکستان سے مذاکرات نہیں ہو سکتے:براہمداغ

Sat, 08 Oct 2016 15:52:54    S.O. News Service

اسلام آباد،8؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جلا وطن علیحدگی پسند راہنما، براہمداغ خان بگٹی نے کہا ہے کہ ان کا مسلح مزاحمت سے کوئی تعلق نہیں؛ نہ ہی بلوچستان لبریشن آرمی کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم، اُنھوں نے کہا ہے کہ وہ بلوچ عوام کی آزادی کے لیے سیاسی کوششیں کر رہے ہیں اور پاکستان کی ریاست یا حکومت کے ساتھ بات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔انہوں نے ہندوستان کے پاکستان کے اندر سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کی حمایت کرتے ہوئے، کہا ہے کہ پاکستان اگر خود دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنے کا اہل نہیں، تو ملک سے دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے اسے امریکہ اور بھارت کے سرجیکل حملوں پر اعتراض کے بجائے ان ملکوں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے بارے میں کہا کہ یہ منصوبہ ہم بلوچوں کی تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے صرف اسلام آباد یا لاہور کو ہی فائدہ پہنچے گا۔

براہمداغ بگٹی سال 2006ء میں اپنے دادا نواب اکبر بگٹی، جو بلوچستان کے گورنر اور وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے تھے، ان کی جنرل مشرف کے دور میں ایک آپریشن کے دوران ہلاکت کے بعد سے جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں اور مختلف ممالک میں قیام کے بعد اب سوٹزرلینڈ میں ہیں، بلوچستان ری پبلکن پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے مختلف بین الاقوامی فورمز، ان کے بقول، صوبیمیں پاکستان کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق آواز بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان نے بلوچ ری پبلکن آرمی اور بلوچ لبریشن آرمی جیسی علیحدگی پسند مزاحمتی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے، اور ان کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے وزیر، سرفراز بگٹی نے بھی وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے براہمداغ بگٹی کے بیان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ حکومت کسی بھی ایسے شخص کے لیے بات کرنے کے لیے تیار ہے جو اسلحہ پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونا چاہے۔ان کے بقول براہمداغ اگر بات نہیں کرنا چاہتے تو یہ ان کا موقف ہے۔ ہمارے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ براہمداغ کے لوگ جوق در جوق ہتھیار ڈال رہے ہیں اور ان کا اپنا خاندان بھی ان کے ساتھ نہیں ہے۔نواب اکبر بگٹی کے ایک پوتے شاہ زین بگٹی اپنے چچا زاد، براہمداغ بگٹی سے مختلف نقظہ نظر رکھتے ہیں اور گزشتہ روز ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر بھارت پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو وہ بلوچ نوجوانوں کو ساتھ ملا کر پاکستان کی فوج کے شانہ بہ شانہ لڑیں گے۔ براہمداغ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ شاہ زین میرے کزن ہیں۔وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ براہمداغ پتا نہیں کس آزادی کی بات کرتے ہیں، بلوچستان کے عوام 1947میں آزاد ہوگئے تھے؛ اور پھر ان کے لفظوں میں سال دو ہزار پانچ، دوہزار چھ میں اس وقت حقیقی طور پر آزاد ہوئے جب صوبے کے عوام کو براہمداغ اور ان کے ظالم دادا سے نجات ملی۔براہمداغ بگٹی نے انٹرویو میں کہا کہ فوجی افسر پگیں پہن کر بلوچ عوام کو ساتھ نہیں ملا سکتے۔ انہوں نے ملٹری اور پیراملٹری فورسز پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ارتکاب، شہریوں کے ماورائے عدالت قتل اور صوبے کے وسائل میں خردبرد کا بھی الزام عائد کیا۔وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اس الزام کی بھی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق کور کمانڈر اور موجودہ مشیر برائے قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے جس طرح عوام اور قبائل کے ساتھ مل کر عسکریت پسندی کی تحریک سے نمٹا ہے اور ہتھیار اٹھانے والوں کو قومی دھارے میں لے آئے ہیں، وہ قابل ستائش ہے۔


Share: