ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے گوامیں تفہیم شریعت اور اصلاح معاشرہ کانفرنس کا کامیاب انعقاد

ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے گوامیں تفہیم شریعت اور اصلاح معاشرہ کانفرنس کا کامیاب انعقاد

Sun, 05 Mar 2017 11:09:02    S.O. News Service

پنجی، 4؍مارچ (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے خواتین و طالبات کیلئے گوامیں دو روزہ ’’تفہیم شریعت اوراصلاح معاشرہ کانفرنس 2017 ‘‘ زیر صدارت ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ، مسؤلہ ویمنس ونگ آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ ، آج کانفرنس کے پہلے دن، بتاریخ : / 4 مارچ، بروز : ہفتہ ، بوقت : 10 بجے دن تا 1 بجے دن، بمقام :نورانی ہال، حویلی کورٹ، فونڈااوروالپئی میں دوپہر 3 بجے دن تا 5 بجے شام ، مڈ گاؤں،گوامیں بہت ہی کامیابی سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز محترمہ شبانہ صاحبہ کی تلاوت کلا م پاک سے ہوا۔محترمہ حنا احمد رحمانی صاحبہ نے افتتاحی کلمات پیش کئے۔ انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا قانون ہی انسان کیلئے بہتر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے مطابق قانون شریعت بنایا ہے۔ مہمان خصوصی پروفیسر رفیق النساء صاحبہ رکن عاملہ متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی ،حیدرآباد نے ’’تعارف شریعت اور تفہیم شریعت‘‘ پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شریعت کے مطالعہ سے ہر مسلمان کے ایمان اور عمل صالح کی راہیں منور ہوجاتی ہیں۔ شریعت کی اطاعت مسلمانوں کیلئے لازمی ہے اور اسکی اطاعت میں ہی ہماری نجات ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماڈرن سوسائٹی، برابری ،آزادی وترقی کے نام پر عورت کی حیثیت کو متاثر کرکے گھر اور خاندانوں کو برباد کررہی ہے۔ شریعت میں برائی، بے حیائی کے تمام دروازے بند کئے گئے ہیں۔ پاکیزہ زندگی کے اصول اور قواعددئیے گئے ہیں۔ شوہر کو بیوی کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ، مسؤلہ ویمنس ونگ آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ، نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شریعت اسلامی کو سمجھنے کیلئے شریعت اسلامی کا بغور مطالعہ ضروری ہے۔تعارف ، تفہیم ،دعوت اور تحفظ شریعت کی ذمہ داری مردوں کے ساتھ عورتوں پر بھی برابر ہے۔ مسلمان عورت کا اسلام میں بلند مقام ہے۔ شریعت کے مطابق گھر اور سماج کی تعمیر و تشکیل کی ذمہ داری عورت پر ہے۔موجودہ دور میں سماجی مسائل کو قانون شریعت سے جوڑ کر مسلم پرسنل لا اورقانون طلاق میں تبدیلی کی بات کی جارہی ہے یہ نہ صرف دستور ہند میں دئیے گئے حقوق اور مذہبی آزادی کے خلاف ہے بلکہ مسلمانوں کے ساتھ ،مسلم معاشرہ میں خاندان کو برباد کرنے کی کوشش ہے۔انھوں نے کہا کہ مسلم سما ج کا مسئلہ طلاق نہیں بلکہ اصل مسائل کی جڑ دین سے دوری،خوف خدا اور آخرت میں جوابدہی کے احساس کی کمی ہے۔ جہالت،غربت، کم علمی اور لاعلمی کی وجہ سے جہیز، لین دین ،اسراف ،فضول خرچی، ظلم و زیادتی مسلم سماج میں داخل ہوگئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اصلاح معاشرہ کے کام میں خواتین بھرپور حصہ لیں اور تحفظ شریعت کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔ خواتین و طالبات کی کثیر تعداد اس کانفرنس میں شریک تھیں جلسہ کی کاروائی محترمہ ثناء احمد رحمانی صاحبہ نے چلائی ۔


Share: