ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مسلم پرسنل لاء بورڈکی مجلس عاملہ میں تفہیم شریعت،قانونی جدوجہد،اتحادامت اوراصلاح معاشرہ پرزور

مسلم پرسنل لاء بورڈکی مجلس عاملہ میں تفہیم شریعت،قانونی جدوجہد،اتحادامت اوراصلاح معاشرہ پرزور

Sat, 19 Nov 2016 12:51:44    S.O. News Service

مسلمان عملی سطح پرمثالی نمونہ پیش کریں،اسلامی قوانین ابدی ہیں،اعتراضات غلط فہمی کانتیجہ:مولانارابع حسنی ندوی

کولکاتا:18؍نومبر(ایس او نیوز ؍پریس ریلیز)آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈکی مجلس عاملہ کاانعقادہواجس میں مسائل کے حل کے لئے جذباتیت کی بجائے حکمت اورتدبرکے ساتھ آگے بڑھنے اورمسلک ومشرب سے اوپراٹھ کراتحادامت پرزوردیاگیا۔مزیدتفہیم شریعت کیلئے اسلامی قوانین کی افادیت ،اس کی معنویت اورعوام میں پھیلی غلط فہمی اورغلط معلومات کے ازالہ پرغوروفکرکیاگیا۔ساتھ ہی اس امرپرغورکیاگیا کہ نکاح وطلاق اوردیگرعائلی وسماجی معاملات میں درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے مسلم معاشرہ میں جوکوتاہی ہوتی ہے،اس کاسدباب کیاجائے،جس کے سبب عام مسلمانوں کی غلطی کواسلامی تعلیمات کی غلطی بتائی جاتی ہے۔اورمسلمانوں کی غلطی کوشریعت کی غلطی سمجھاجاتاہے حالانکہ یہ دین کامل ہے اورخداکے بنائے ہوئے قوانین فطرت انسانی اورعام ضرورت کے مطابق ہیں۔ طلاق کے مسئلہ پرجواعتراضات کئے جارہے ہیں اس میں خاصادخل نکاح اورطلاق کے مسئلہ کوصحیح طورپرنہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔یہ قانون انسان کابنایاہوانہیں ہے۔اللہ رب العزت کاہے جوانسانوں کاخالق اوران کی ضرورتوں اوردشواریوں کوسب سے زیادہ جاننے والاہے۔اس میں کسی طرح کاشبہ نہیں کرناچاہئے۔ عاملہ کی میٹنگ صدرمسلم پرسنل لاء بورڈمولانارابع حسنی ندوی کی صدارت میں ہوئی جس میں جنرل سکریٹری بورڈمولانامحمدولی رحمانی،مولاناکلب صادق مولاناجلال الدین عمری،کاکاسعید،مولانافخرالدین کچھوچھوی،مولاناخلیل الرحمان سجادنعمانی،مولاناعبدالوہاب خلجی،مولاناخالدرشیدفرنگی محلی،مولاناخالدسیف اللہ رحمانی،مولانافضل الرحیم مجددی،مولاناعتیق احمدسنبھلی،مولاناعبداللہ مغیثی،کمال فاروقی مولاناسفیان قاسمی،مولانامصطفیٰ رفاعی ندوی،قمرالاسلام،مولانااسرارالحق قاسمی،مولاناعبداللہ پھولپوری،ڈاکٹراسماء زہرا،ڈاکٹرقاسم رسول الیاس،ظفریاب جیلانی ،مولاناانیس الرحمان قاسمی اورمولاناابوطالب رحمانی شامل رہے۔اراکین نے خطبہ صدارت کی تائیدکی اورملک کے موجودہ پس منظرمیں بورڈکی کوششوں کوسراہانیزصدربورڈاورجنرل سکریٹری بورڈکے اقدام کی تحسین اوربورڈکی کارگذاریوں پراظہاراطمینان کرتے ہوئے ان کے ساتھ مکمل تعاون کااعلان کیا۔نظامت امیرشریعت مولانامحمدولی رحمانی نے کی ۔

صدربورڈمولانارابع حسنی ندوی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ اسلام کے مذہبی قوانین کویہ خصوصی اہمیت حاصل ہے کہ وہ آسمانی کتاب قرآن مجیداورآخری نبی کوملنے والی وحی کے ذریعہ مقررکردہ اورابدی ہیں۔وہ آسمانی ہدایات کے تحت ہونے کی بناپرناقابل تغیراورناقابل تنسیخ ہیں۔اسی وجہ سے مسلمانوں کیلئے اس میں کسی طرح کی ترمیم کرنا یاترمیم کامشورہ دیناقابل قبول نہیں ہے۔اورہندوستان کے سیکولردستورکی بناپرمسلمانوں کو اس بات کاحق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق عمل کریں۔صدربورڈنے اس سلسلہ میں تین اہم پہلوؤں کی طرف اشارہ فرمایااورکہاکہ ایک تواس سلسلہ میں ناواقف لوگوں کے اشکالات رفع کئے جائیں اورانہیں مطمئن کیاجائے۔دوسرے یہ کہ عدالتی ضرورت پڑنے پرقانونی جدوجہدکی جائے تیسرے یہ کہ مسلمانوں کوعملی سطح پرمثالی نمونہ پیش کرنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔صدرمحترم نے واضح کیاکہ طلاق کے مسئلہ پرجواعتراضات کئے جارہے ہیں اس میں خاصادخل نکاح اورطلاق کے مسئلہ کوصحیح طورپرنہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔یہ قانون انسان کابنایاہوانہیں ہے۔اللہ رب العزت کاہے جوانسانوں کاخالق اوران کی ضرورتوں اوردشواریوں کوسب سے زیادہ جاننے والاہے۔اس میں کسی طرح کاشبہ نہیں کرناچاہئے۔مولانارابع حسنی ندوی نے واضح کیاکہ طلاق بظاہرسختی کاعمل سمجھاگیاہے لیکن وہ سخت خطرہ سے بچانے کیلئے بطورضرورت رکھی گئی ہے۔نکاح وطلاق ومیراث میں عورتوں کیلئے فائدہ کی صورتیں مردوسے زیادہ رکھی گئی ہیں۔صدربورڈنے اس پرزوردیاکہ اسلام میں مذہبی عمل کادائرہ صرف عبادات تک محدودنہیں،وہ عقیدۂ توحید،عائلی تعلقات،سماجی معاملات اورمالی احکامات تک پھیلاہواہے اورعبادات کی طرح ہی قابل عمل ہیں۔ان میں انسان کے نفع وضرردونوں کابہت حکیمانہ اندازپایاجاتاہے اوران تفصیلات ومصلحتوں کی صحیح تشریح ،قرآن وحدیث کوتفصیل وتوجہ سے پڑھے بغیرکوئی انسان نہیں کرسکتااس سلسلہ میں قرآن وحدیث کاعلم رکھنے والے ہی ان کی مصلحت وانسانی ضرورت سے ان کی مطابقت بتاسکتے ہیں خواہ نکاح کامسئلہ ہویاطلاق کا۔مولانارابع حسنی ندوی نے یہ بھی کہاکہ شادی کواسلام میں معاہدہ کی شکل دی گئی ہے،ہاں مسلمان بہت سے امورکونظراندازکرتے ہیں اس کی وجہ سے غلط فہمی پیداہوتی ہے۔مسلمانوں کی غلطی شریعت کی غلطی سمجھی جاتی ہے جودرست نہیں۔صدرمحترم نے کہاکہ ہمارایہ اجلاس ملک کے خاص حالات میں منعقدہورہاہے جس میں بورڈلائحہ عمل طے کرے گا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈکے نائب صدرمولاناکلب صادق نے اپنے خطاب میں کہاکہ آج ہمیں یہ تہیہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف مسلمان ہیں۔میں صرف مسلمان سمجھتا ہوں اپنے آپ کو، مسائل اسی لئے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو شیعہ سنی دیوبندی بریلوی میں بانٹ رکھا ہے۔جب تک ہمارے اندر سے یہ برائی ختم نہیں ہوگی ہم کامیاب نہیں ہوسکتے۔آج ہمیں عقل اور تدبر سے کام لینا ہوگا اور عقل کیلئے علم کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کاسب سے اہم اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہت جلد مشتعل ہوجاتے ہیں بہت جلد غصہ ہوجاتے ہیں اور نعرے لگانے لگتے ہیں لیکن یادرکھیں کہ مسائل صرف تدبر اور عقل سے حل ہوتے ہیں جذبات اور نعرہ سے نہیں۔انسان اور جانور میں فرق یہی ہے کہ انسان کو اللہ نے عقل جیسا عظیم تحفہ دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم عقل رکھتے ہیں اس لئے جانور پر سواری کرتے ہیں آج ہم نے عقل وتدبرسے کام لینا چھوڑ دیا ہے تو دیگر قومیں ہمارے اوپر سوارہیں۔


Share: