ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / عمر عبداللہ کی قیادت میں جموں و کشمیر کی اپوزیشن جماعتوں کے وفد نے مودی سے کی ملاقات

عمر عبداللہ کی قیادت میں جموں و کشمیر کی اپوزیشن جماعتوں کے وفد نے مودی سے کی ملاقات

Mon, 22 Aug 2016 18:19:03    S.O. News Service

وزیراعظم نے ساتھ مل کر طویل مدتی حل نکالنے پرزوردیا،کشیدہ صورتحال پراظہارِتشویش،لیڈروں کی تجاویزکی تعریف کی،عمرعبداللہ نے مودی کے بیان کاخیرمقدم کیا

نئی دہلی، 22؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جموں و کشمیر کی اپوزیشن پارٹیوں کے ایک مشترکہ وفد نے آج ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور انہیں ریاست کے زمینی حالات سے آگاہ کرایا ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ وہ وادی میں پھیلی بدامنی کا حل تلاش کرنے کے لیے سیاسی رخ اپنائیں ۔اس موقعہ پروزیراعظم نریندرمودی نے کشمیر کے لوگوں تک رسائی کی ایک کوشش کے تحت آج وہاں کی صورتحال کو لے کرگہری تشویش ظاہرکی۔ اور تمام سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ جموں کشمیر کے مسائل کا ’’مستقل اور طویل مدتی‘‘حل نکالنے کیلئے ساتھ مل کر کام کریں۔مودی نے وادی میں حالات کی درستگی کی اپیل کی جہاں گزشتہ44دنوں سے بدامنی جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ بات چیت ہونی چاہئے۔مودی کے ساتھ جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں حزب اختلاف کے ایک مشترکہ وفد کے ساتھ 75منٹ کی ملاقات کے بعد جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نے بات چیت کے دوران ان کی جانب سے دی گئی ’’تخلیقی تجاویز‘‘کی تعریف کی۔مودی نے لوگوں کی فلاح و بہبود کے تئیں اپنی حکومت کے عزم کودوہرایا۔
بیان جاری ہونے کے فوری بعد عمر عبداللہ نے ٹویٹ کیاکہ ہم معزز وزیر اعظم نریندر مودی جی کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ہم جموں کشمیر کے مسائل کا طویل مدتی حل نکالنے کیلئے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔غورطلب ہے کہ وادی میں گزشتہ 45دنوں سے کرفیو کاسلسلہ جاری ہے۔وہاں کے موجودہ حالات کے پیش نظر ریاست کی تمام اپوزیشن جماعتیں پارٹی کے جذبے سے اوپر اٹھ کر متحد ہوگئی ہیں اور انہوں نے مرکز سے درخواست کی ہے کہ وہ ریاست میں سبھی فریقوں کے ساتھ سیاسی مذاکرات کا آغاز کرے۔عمر کے علاوہ اس وفد میں ریاستی کانگریس کی سات رکنی ٹیم اور اہم اپوزیشن نیشنل کانفرنس کی 8 رکنی ٹیم شامل ہے۔یہ وفد قومی دارالحکومت میں ہے اور حکومت ، اپوزیشن کے لیڈروں سے ملاقات کر رہا ہے۔وفد میں کانگریس پارٹی کی قیادت ریاستی کانگریس کمیٹی کے سربراہ جی اے میر کر رہے ہیں۔نیشنل کانفرنس کی ٹیم میں اس کے صوبائی سربراہ نصیر وانی اور دیویندر رانا بھی ہیں۔ان کے علاوہ سی پی ایم کے رکن اسمبلی ایم وائی تریگامی بھی اس وفد میں شامل ہیں۔وفد نے وادی میں لوگوں کی اموات پر ناراضگی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اور حالات سے نمٹنے میں سیاسی رخ کے فقدان پر مایوسی کااظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم کو ایک میمورنڈم سونپا۔وفد نے وزیر اعظم کو بتایا کہ کشمیر میں سیاسی مسئلہ کا حل سیاسی طریقے سے کرنے کے بجائے پہلے بھی آزمائے جا چکے انتظامی طریقوں سے کرنے کی وجہ سے صورت حال اور زیادہ بگڑگئی ہے اور اس کی وجہ سے عدم اطمینان اور اکتاہٹ کا شدید احساس پیدا ہوا ہے۔یہ احساس خاص طور پر نوجوانوں میں نشوونما پاتا ہے۔میمورنڈم میں کہا گیاہے کہ ہماری یہ مضبوط رائے ہے کہ مرکزی حکومت کو اب مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے اور ریاست میں پھیلی بدامنی سے نمٹنے کے لیے سبھی فریقوں کے ساتھ قابل اعتماد اور بامعنی سیاسی مذاکرات شروع کر دینا چاہیے ۔وفد نے کہاکہ کشمیر میں پھیلی بدامنی پر غور کرنے میں مسلسل ناکام رہنے سے تنہائی کا احساس اور زیادہ گہراہو گا۔اس کے ساتھ ہی وفد نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم اس نازک صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کریں گے۔وفد نے وادی میں مسلسل جاری احتجاجی مظاہروں کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ بہت سے نوجوان ان احتجاجی مظاہروں کا شکار بنے ہیں۔ان میں عرفان نامی ایک نوجوان بھی شامل ہے، کل رات آنسو گیس کا گولا اس کے سینے پر آکر پھٹ جانے کی وجہ سے موت ہو گئی تھی۔میمورنڈم میں وزیر اعظم سے درخواست کی گئی کہ وہ پیلیٹ گن پر فوری پابندی لگانے کی اپیل کریں۔موجودہ بدامنی میں ان پیلیٹ گن کی وجہ سے بہت سے لوگ شدید زخمی ہوئے ہیں اور بہت سے نوجوان لڑکے لڑکیاں اس کی زد میں آکر یا تو معذور ہو گئے ہیں یا پھر ان کی آنکھوں کی روشنی ضائع ہو گئی ہے۔میمورنڈم میں کہا گیاہے کہ ہم آپ سے یہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ آپ اجتماعی تشدد، چھاپہ ماری اور گرفتاریوں کی پالیسی کے خلاف متعلقہ طبقوں کو مشورہ دیں کیونکہ اس کی وجہ سے ریاست میں پہلے سے بگڑی ہوئی صورت حال اور زیادہ نازک ہو گئی ہے۔یہ پالیسیاں ہمارے جمہوری تانے بانے کے اقدار اور اصولوں کے خلاف ہیں۔اس وفد نے اس سیاسی پہل کا آغاز ہفتہ کو صدر پرنب مکھرجی سے ملاقات کرکے اور انہیں ایک میمورنڈم سونپ کر کیا تھا ۔اس میمورنڈم میں صدر سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے مرکز کو ریاست کے سبھی فریقوں کے ساتھ سیاسی مذاکرات شروع کرنے کے لیے کہیں۔ریاستی وفد نے کل کانگریس نائب صدر راہل گاندھی سے ملاقات کی تھی اور انہیں ریاست کی صورتحال سے آگاہ کرایا تھا۔


Share: