پیرس،11؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)وزیر خارجہ جین مارک ایرائل نے پیر کو فرانس انٹر ریڈیو کو بتایا کہ یہ بمباری جنگی جرائم ہیں، حلب میں جو ہو رہا ہے اور اس میں جو بھی شریک ہیں بشمول روسی راہنما بھی۔ان کا کہنا تھا کہ فرانس بین الاقوامی عدالت انصاف کے استغاثہ سے مشورہ کرے گا تا کہ یہ دیکھا جا سکے کہ تحقیقات کو کس طرح شروع کیا جائے۔ہم اس سے متفق نہیں ہیں کہ جو روس کر رہا ہے، حلب پر بمباری۔ فرانس حلب میں آبادی کے تحفظ کے لیے اس سے پہلے کبھی بھی اتنا پر عزم نہیں رہا۔ماسکو شام میں شہریوں پر حملوں کو مسلسل مسترد کرتا آ رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گرد گروپوں کو ہدف بنا رہا ہے۔فرانسیسی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر فرانسواں اولاند اپنے روسی ہم منصب ولادیمر پوتن سے ملاقات سے بھی انکار کر سکتے ہیں جو آئندہ ہفتے فرانس کے دورے پر آ رہے ہیں۔ان کے بقول اگر اولاند، پوتن سے ملاقات پر آمادہ ہوتے ہیں تو یہ صرف رسمی جملوں کے لیے نہیں ہو گا، یہ وقت ہو گا کہ حقیقت پر بات کی جائے۔پوتن 19اکتوبر کو پیرس کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ ایک نئے آرتھوڈوکس چرچ کا افتتاح کریں گے۔گزشتہ ہفتے روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس قرارداد کو روک دیا تھا جو فرانس اور اسپین نے شام میں بمباری کی روک تھام کے لیے تجویز کی تھی۔تاحال یہ واضح نہیں کہ بین لاقوامی عدالت انصاف حلب میں بمباری کی کس طرح تحقیقات کرے گی کیونکہ نہ ہی روس اور نہ ہی شام اس عدالت کے رکن ہیں۔