ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بیلاروس میں حکومت مخالف مظاہرے کی قیادت کرنے والی خاتون رہنما کا 'اغوا'

بیلاروس میں حکومت مخالف مظاہرے کی قیادت کرنے والی خاتون رہنما کا 'اغوا'

Tue, 08 Sep 2020 19:23:57    S.O. News Service

لندن، 8/ ستمبر (آئی این ایس انڈیا) بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں حکومت مخالف مظاہرے کی قیادت کرنے والی خاتون رہنما ماریا کولسنیکووا کو نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بیلاروس کے میڈیا نے عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نامعلوم افراد نے اپنا چہرہ ڈھانک رکھا   تھا  جو ماریا کو اپنے ساتھ لے گئے۔مظاہرے کی قیادت کرنے والی خاتون رہنما کو ایک ایسے وقت میں اغوا کیا گیا جب چند گھنٹے قبل ہی حکومت مخالف شدید احتجاج میں شریک 633 افراد کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے  کہ انہوں نے ماریا کولیسنکووا کو گرفتار نہیں کیا۔ماریا کولیسنکووا بیلاروس میں طویل عرصے سے حکمرانی کرنے والے لوکاشینکو کے خلاف 9 اگست کو انتخابات سے قبل اتحاد کرنے والی تین خواتین سیاست دانوں میں سے ایک ہیں اور وہ واحد رہنما ہیں جو انتخابات کے بعد ملک میں ہی موجود ہے۔

انہوں نے انتخابات کے بعد لوکاشینکو کے خلاف ملک بھر میں شدید احتجاج میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے باعث سیاسی بحران پیدا ہوگیا  اور عوام، صدر پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرنے لگے اورحکومت کے مخالفین مطالبہ کرنے لگے  کہ دوبارہ انتخابات منعقد کیے جائیں جبکہ اس مطالبے کو مسترد کردیا گیا۔

خیال رہے کہ انتخابات سے قبل ماریا کولیسنکووا سمیت دیگر اتحادیوں نے صدارتی امیدوار کے لیے سویٹلانا ٹیکھنووسکایا کو چنا تھا جو انتخابات کے فوری بعد پڑوسی ملک لیتھوانیا چلی گئی تھیں۔اپوزیشن اتحاد میں شامل ایک اور خاتون رہنما ٹسیپکالو بھی ملک چھوڑ چکی ہیں، اس کے علاوہ ایک اور رہنما اولگا کووالکووا بھی دو روز قبل پولینڈ پہنچ گئیں۔پولینڈ میں موجود ٹسپکالو کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ اگر بیلاروس میں موجود رہیں گی تو گرفتاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اتحادیوں کو بیلاروس میں تاحال کولیسنکووا سے متعلق کوئی علم نہیں ہے کہ وہ کہاں موجود ہیں۔ایک اور رہنما کا کہنا تھا کہ کولیسنکووا کا اغوا بظاہر حکام کی جانب سے اپوزیشن کی رابطہ کونسل ناکام بنانے اور اراکین کو دباؤ میں لانے کے لیے کیا گیا۔

یاد رہے کہ بیلاروس میں 9 اگست کو انتخابات ہوئے تھے جس کے بعد اپوزیشن نے طویل عرصے سے برسر اقتدار لوکاشینکو پر دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا اور شدید احتجاج شروع ہوا تھا۔صدر الیگزینڈر لیوکاشینکو نے 80 فیصد نشستیں حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ اپوزیشن رہنما نے اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا تھا۔


Share: