کوئٹہ،7اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں جمعہ کو نامعلوم عسکریت پسندوں کی طرف سے ایک مسافر ریل کو بم دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا جس سے کم ازکم چار افراد ہلاک اور 16زخمی ہوگئے۔ریلوے کے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے اسلام آباد میں صحافیوں کو واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حملے کا ہدف مسافر ٹرین ’’جعفر ایکسپریس‘‘تھی۔جب یہ ریل گاڑی مچھ اور آب گم کے درمیان سے گزر رہی تھی تو اس کی بوگی نمبر 2 کے نیچے دھماکا ہوا جس پر ٹرین روک دی گئی۔ تقریباً 15سے 20منٹ کے بعد ایک اور دھماکا ہوا بوگی نمبر چار کے نیچے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی اہلکار اور امدادی کارکن جائے وقوع پر پہنچ گئے اور یہاں سے لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس ریلوے لائن پر ریل گاڑیوں کو سکیورٹی کلیئرنس کے بعد ہی چلایا جاتا ہے اور ابھی اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اس ٹرین کو کس نے کلیئرنس دی تھی۔ان کے بقول بلوچستان میں ریلوے لائنوں کو ہدف بنانے والا ایک نیا نیٹ ورک کام کر رہا ہے کیونکہ ایسی کارروائیاں کرنے والے نیٹ ورک کو توڑا جا چکا ہے۔سعد رفیق نے بتایا کہ ایک روز قبل بھی کوئٹہ کے قریب ریلوے لائن کے ساتھ بم نصب کیا جا رہا تھا کہ لائنوں کی نگرانی کرنے والے ارکان نے اس مشتبہ شخص کو حراست میں لیتے ہوئے بم قبضے میں لے لیا تھا۔جو لوگ یہ کر رہے ہیں ان تک یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں کہ ہم آپ کا سراغ لگائیں گے اور آپ کو وہیں پہنچائیں گے جہاں کے آپ قابل ہیں کیونکہ آپ بے گناہ پاکستانیوں کو ہدف بناتے ہیں تو آپ کے ساتھ کوئی رعائت نہیں ہوگی۔بلوچستان میں اس سے قبل بھی ریلوے لائنوں اور ریل گاڑیوں پر عسکریت پسند حملے کرتے رہے ہیں جن میں سے اکثر کی ذمہ داری صوبے میں سرگرم کالعدم عسکریت پسند اور علیحدگی پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔